اسلام آباد: زرعی یونیورسٹی کے سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز میں ”تحقیق برائے خوراک” کے عنوان سے ایک پالیسی مذاکرہ میں ماہرین نے کہا ہے کہ2050 تک پاکستان کی آبادی 39 کروڑ تک پہنچنے کے امکانات کے پیش نظر غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
جس کے لئے پاکستان کے زرعی تحقیقی نظام کو مضبوط بنانے، اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور پالیسیوں میں تسلسل لانا ہو گایہ تقریب پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ریسرچ کلسٹر کے تحت منعقد کی گئی جس میں ایگری پالیسی، لاء اینڈ گورننس سینٹر، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر، اور بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی نے شرکت کی اس تقریب کے موقع پرپروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں اور ان کے شریک مصنفین پروفیسر ڈاکٹر فقیر انجم، پروفیسر ڈاکٹر آصف کامرانکی لکھی ہوئی کتاب ”ڈیبیٹ: ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیکیورٹی پالیسی” کی رونمائی بھی کی گئی، جو پاکستان اکیڈمی آف سائنسز نے شائع کی ہے۔
چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غذائی عدم استحکام سنگین مسلہ ہے۔ انہوں نے روایتی کاشتکاری، زمین کی گرتی ہوئی زرخیزی، موسمیاتی تبدیلیوں اور جدید مشینری تک محدود رسائی کو پیداوار میں کمی کی بڑی وجوہات قرار دیا اور تاریخی ”لائل پور ماڈل” کی بحالی پر زور دیا تاکہ تحقیق اور سائنسی ایجادات کے فوائد براہ راست کسانوں تک پہنچ سکیں۔وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے غذائی تحفظ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی ”جین سے فورک” (بیج سے کھانے کی میز تک) پر کام کر رہی ہے، لیکن پیداوار کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈیشن، مارکیٹنگ اور پروسیسنگ جیسے شعبوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور فصلوں کے ضیاع میں کمی لائی جا ئے ڈائریکٹر ایگری پالیسی، لاء اینڈ گورننس سینٹر پروفیسر ڈاکٹر ایم آصف کامران نے کہا کہ اس مکالمے کا مقصد محققین، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وہ خیالات کا تبادلہ کر سکیں اور پائیدار غذائی نظام اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے سفارشات مرتب کر سکیں۔
انہوں نے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں نجی شعبے کی زیادہ شمولیت پر بھی زور دیا اور زراعت میں جدت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے دانشورانہ ملکیت کے حقوق کو مزیدمضبوط بنانے پر زور دیاآسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد اعجاز قریشی نے عالمی غذائی نظام، زرعی معاشیات، اور غذائی نظم و نسق اور دیہی معاش کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری پالیسی مداخلتوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یونیورسٹی آف کیسل کے پروفیسر ڈاکٹر اینڈریاس برکرٹ نے زرعی تحقیق اور علم کی منتقلی میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے پاکستان کی سائنسی صلاحیت اور مسائل حل کرنے کی اہلیت کو سراہتے ہوئے اداروں کو مشورہ دیا کہ بہتر منصوبہ بندی، انتظام اور طویل مدتی پالیسی اقدامات کے ذریعے مسائل کو پیدا ہونے سے پہلے روکنے پر بھی کے لئے اقدامات کریں
