گورنر بلوچستان نے ہدایت دی کہ گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج کو درپیش تمام مسائل بالخصوص تدریسی عملے کی کمی کو فوری طور حل کیا جائے۔ ہم اس تاریخی ادارے کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کیلئے پُرعزم ہیں۔ ہمارا وژن کالج کو موجودہ تعلیمی اور صنعتی معیارات سے ہم آہنگ کر کے اسے تقاضوں کے مطابق مہارت پر مبنی تربیت متعارف کرانا ہے۔ مذکورہ کالج کے قیام کے 84 سال بعد ہم اس موقر تعلیمی ادارے کا پہلا کانووکیشن منا رہے ہیں۔ مجھے اس تاریخی سنگ میل پر بحیثیت گورنر بلوچستان آپ کے ساتھ کھڑے ہونے اور آپ کی خوشیوں میں شریک ہونے پر فخر ہے
کوئٹہ 18 مئی: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہدایت دی کہ گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج کو درپیش تمام مسائل بالخصوص تدریسی عملے کی کمی کو فوری طور حل کیا جائے۔ ہم اس تاریخی ادارے کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کیلئے پُرعزم ہیں۔ ہمارا وژن کالج کو موجودہ تعلیمی اور صنعتی معیارات سے ہم آہنگ کر کے اسے تقاضوں کے مطابق مہارت پر مبنی تربیت متعارف کرانا ہے۔ مذکورہ کالج کے قیام کے 84 سال بعد ہم اس موقر تعلیمی ادارے کا پہلا کانووکیشن منا رہے ہیں۔ مجھے اس تاریخی سنگ میل پر بحیثیت گورنر بلوچستان آپ کے ساتھ کھڑے ہونے اور آپ کی خوشیوں میں شریک ہونے پر فخر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج سریاب کے پہلے کانووکیشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز، سیکرٹری تعلیم صالح بلوچ، ڈاکٹر ظہور بازئی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان، پرنسپل گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج پروفیسر ڈاکٹر عبدالرازق پرکانی اور کوئٹہ کے بوائز اینڈ گرلز کالجز کے پرنسپل صاحبان سمیت کالج اساتذہ کرام اور گریجویٹس کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج کے پہلے کانووکیشن کے شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے تمام فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس اور خاص طور پر ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ گریجویٹ بوائز ڈگری کالج سریاب کے پہلے پرنسپل پروفیسر محمد خان نے تعلیمی فضیلت کے وژن کے ساتھ بنیاد رکھی۔
وہ تعلیمی کارواں آگے بڑھا اور آج ہمارے موجودہ پرنسپل پروفیسر عبدالرازق پرکانی کی متحرک قیادت کے ساتھ اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہمارے قابل احترام اساتذہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے ادارے صرف تعلیم سے متعلق نہیں ہیں بلکہ بلند کردار اور اخلاقی قوت کی تعمیر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی آٹھ دہائیوں کے دوران، ہزاروں نوجوان اسکالرز پوسٹ گریجویٹ بوائز ڈگری کالج کے دروازوں سے گزرے، اس کے ہال اور کلاس رومز میں چلے۔ بعد ازاں اپنے علاقوں، اپنے صوبے اور اپنے ملک کی خدمت کرتے رہے۔ یہ کالج ہمارے صوبے کے قدیم ترین تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ یہ ہمارے ماضی کا فخر ہے، ہمارے حال کی شناخت ہے اور ایک روشن مستقبل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس تاریخی کالج کو دوبارہ تعلیمی اور تیکنیکی تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ پوسٹ گریجویٹ بوائز ڈگری کالج کی تمام فیکلٹی اسے پہلے سے زیادہ مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے اور ہمارے نوجوانوں کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے تیار بھی ہے۔ گورنر بلوچستان نے منتظمین کو کامیاب کانووکیشن کا انعقاد پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پرنسپل پروفیسر عبدالرزاق اور ان کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں اور امید ہے کہ آپ اسی جذبہ و ولولہ کے ساتھ آئندہ بھی سرگرم عمل رہیں گے۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے مذکورہ کالج کے فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس میں سے پوزیشن ہولڈرز کو گولڈ میڈل پہنائے گئے اور مہمانوں اور منتظمین میں شیلڈز تقسیم کیے گئے۔
