واشنگٹن(الفجرآن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نیٹو اتحادیوں کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ کسی بھی بحران یا جنگ کی صورت میں یورپی ممالک کی مدد نہیں کرے گا، امریکہ اب اس حوالے سے اپنی افواج کے حصے کو کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے نیٹو اتحادیوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ نیٹو کے“فورس ماڈل”سے متعلق ہے، جس کے تحت اتحاد کے رکن ممالک ممکنہ جنگ یا بڑے بحران کی صورت میں استعمال کے لیے مخصوص فوجی دستے مختص کرتے ہیں۔ امریکہ اب اس فریم ورک کے تحت اپنی دستیاب افواج کے حصے کو کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پنیٹاگون) نے فیصلہ کیا ہے کہ یورپ میں بحران کے دوران فراہم کی جانے والی فوجی مدد میں نمایاں کمی کی جائے گی، تاہم اس کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں کہ یہ تبدیلی کتنی تیزی سے نافذ ہوگی۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم متوقع تھا کیونکہ اتحاد اب“ایک ہی ملک پر حد سے زیادہ انحصار ختم”کرنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ نیٹو کی مجموعی سیکیورٹی حکمت عملی کا اہم حصہ برقرار رہے گا۔ امریکی دفاعی پالیسی کے اعلیٰ اہلکار ایلبریج کولبی اس منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ امریکہ یورپی اتحادیوں کی مدد جاری رکھے گا، تاہم روایتی زمینی افواج کا بوجھ یورپ کو زیادہ اٹھانا ہوگا، جبکہ امریکہ اپنی جوہری ڈیٹرنس پالیسی برقرار رکھے گا۔اس پیش رفت کے ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے یورپ میں موجود تقریباً 5 ہزار فوجیوں کی واپسی اور پولینڈ میں ایک بریگیڈ کی تعیناتی منسوخ کرنے کے فیصلے نے بھی نیٹو ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے۔نیٹو میں بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے ان اقدامات سے اتحاد پر دباؤ بڑھے گا، تاہم انہیں اب بھی یقین ہے کہ کسی بڑے بحران کی صورت میں امریکہ یورپ کا ساتھ دے گا۔
