بلوچستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری، ڈیجیٹل شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے خواتین کی پہلی “انٹرپرینیورشپ اے آئی لیب فار ویمن” قائم کردی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے لیب کا باقاعدہ افتتاح کیا ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان اور DOCH پرائیویٹ لمیٹڈ کے اشتراک سے قائم کی گئی اس جدید اے آئی لیب کا مقصد خواتین کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اسکلز، کاروباری تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں اور قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں اور حکومت انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کو صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع تک رسائی دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ “انٹرپرینیورشپ اے آئی لیب فار ویمن” خواتین کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوگی جہاں وہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انوویشن اور کاروباری مہارتیں حاصل کرکے اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکیں گی۔
اس اقدام سے خواتین کے لیے روزگار، آن لائن بزنس، فری لانسنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی نئے مواقع پیدا ہوں گے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ موجودہ دور میں اے آئی دنیا کی معیشت، تعلیم اور کاروبار کا رخ تبدیل کررہی ہے، اس لیے بلوچستان کی خواتین کو بھی اس جدید انقلاب کا حصہ بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے، ان کی معاشی شمولیت بڑھانے اور انہیں ڈیجیٹل معیشت سے جوڑنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ “آج کی مہارتیں ہی کل کی قیادت کو جنم دیتی ہیں” اور خواتین کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنا کر ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے اے آئی لیب سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بینظیر ویمن سینٹر کی منیجر روبینہ زہری نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت خواتین کو اے آئی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کاروباری منصوبہ بندی، انوویشن اور جدید ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس لیب کا بنیادی مقصد خواتین کو “Innovate, Entrepreneur and Lead” کے وژن کے تحت نئی مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں خود روزگار کے قابل بنانا ہے انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے ذریعے خواتین کو مساوی مواقع، جدید ڈیجیٹل اسکلز، کاروباری اعتماد، نیٹ ورکنگ اور اشتراک کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لاسکیں بلکہ بلوچستان کی معاشی ترقی میں بھی بھرپور کردار ادا کرسکیں اس موقع پر سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سائرہ عطاء بھی موجود تھیں۔
