اسلام اباد میں طلاقوں کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں ہر گھنٹے میں اوسطاً 38 طلاقیں رجسٹر ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ سال 2025 کے دوران طلاق کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جسے ماہرین ایک سنگین معاشرتی بحران قرار دے رہے ہیں۔
سماجی حلقوں کے مطابق جذباتی فیصلے، خاندانی دباؤ، مہنگائی، بے روزگاری، جہیز کے تنازعات اور گھریلو جھگڑے شادیوں کے ٹوٹنے کی بڑی وجوہات بن رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برداشت، اعتماد اور باہمی احترام کی کمی بھی ازدواجی زندگی پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
طلاق کے بعد خواتین کو سماجی رویوں، معاشی مشکلات اور بچوں کی پرورش کی دوہری ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ مرد حضرات بھی نئے رشتے قائم کرنے میں مختلف مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔
ماہرینِ سماجیات نے حکومت اور معاشرے سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوانوں کی شادی سے قبل رہنمائی، خاندانی مشاورت اور شعور بیدار کرنے کے اقدامات کیے جائیں تاکہ بڑھتے ہوئے خاندانی بحران پر قابو پایا جا سکے۔
