بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوئٹہ اور گوادر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کے کاروبار کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔کوئٹہ میں کارروائی کے دوران 3 غیر قانونی واٹر فلٹریشن پلانٹس سیل کر دیے گئے ، مذکورہ یونٹس میں غیر رجسٹرڈ بوتل پانی کی تیاری اور اوپن مارکیٹ کو سپلائی کیا جارہا تھا ۔
کارروائیوں کے دوران مختلف خلاف ورزیوں پر 20 متفرق کھانے پینے کے مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 19 یونٹس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے جہاں مالکان و ورکرز کو صفائی، اجزاء کے معیار اور خوراک کی محفوظ تیاری سے متعلق واضح ہدایات فراہم کی گئیں۔بی ایف اے کی انسپکشن ٹیموں نے مختلف علاقوں میں خوراک کے مراکز، ہوٹلز، دکانوں اور واٹر پلانٹس کا تفصیلی معائنہ کیا، اتھارٹی حکام نے صفائی کی صورتحال، اشیاء خوردونوش کے معیار اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ متعدد مقامات پر ناقص صفائی، غیر معیاری اجزاء کے استعمال اور بنیادی اصولوں کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن پر موقع پر ہی کارروائی عمل میں لائی گئی۔کارروائی کے دوران عملے کو ذاتی صفائی، محفوظ خوراک کی تیاری، اور اسٹوریج کے درست طریقہ کار سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی گئی تاکہ آئندہ کسی بھی قسم کی غفلت سے بچا جا سکے۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ "بی ایف اے عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا قانون شکنی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ڈی جی کے مطابق غیر معیاری و مضر صحت خوراک کی فراہمی میں ملوث عناصر اور غیر قانونی و غیر رجسٹرڈ یونٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔انہوں نے تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو ہدایت کی کہ وہ فوڈ سیفٹی قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈائریکٹر جنرل بی ایف اے نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر معیاری خوراک کی نشاندہی میں ادارے کے ساتھ تعاون کریں اور ایسی کسی بھی سرگرمی کی فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے