اسلام آباد: ایوان بالا کو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا ہے کہ خلیجی ممالک جانے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھیک مانگنے کا کام کرتی ہے جس سے نہ صرف ملک کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ ان ممالک کی جانب سے ویزہ پالیسی بھی سخت ہوجاتی ہے۔منگل کو سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے سینیٹرجان محمد کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی مسافر کو بغیر کسی وجہ کے آف لوڈ نہیں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ متوسط طبقے کے لوگ ایمپلائمنٹ ویزے پر بیرون ملک جاتے ہیں ان کو آف لوڈ کرنے میں حکومت کو کیا فائدہ ہے یہ لوگ تو پاکستان کیلئے زر مبادلہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت یواے ای کے ویزوں میں بہت زیادہ مشکلات ہیں جس کی بڑی وجہ بھیک مانگنا ہے۔انہوں نے کہاکہ ویزوں کے حوالے سے فراڈ بہت زیادہ ہوتا ہے جس کو حکومت دیکھتی ہے۔سینیٹر جان محمد نے کہاکہ 60ہزار سے زائد افراد کو ائیرپورٹ سے واپس کیا گیا انہوں نے ٹکٹ اور پاسپورٹ پر لاکھوں روپے خرچ کئے تھے اس کا ازالہ کون کرے گاجس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہاکہ جن افراد کو روکا گیا ہے ان کیلئے ایف آئی اے نے شکایات سیل بنایا ہے اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو تو متعلقہ آفیسر کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ جس بھی مسافر کو ایف آئی اے روکتی ہے تو اس کو وجہ بھی فوری طور پر بتا دی جاتی ہے۔۔۔
