بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے صوبے کے مختلف اضلاع میں مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے ناقص صفائی، زائدالمیعاد اشیاء، غیر قانونی کاروبار اور فوڈ سیفٹی ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ایک یونٹ سیل، 32 یونٹس پر جرمانے اور درجنوں کو اصلاحی نوٹسز جاری کردئیے ۔کوئٹہ میں کارروائی کے دوران ایک آئس کریم مینوفیکچرنگ یونٹ کو سنگین خلاف ورزیوں، ناقص صفائی، لائسنس و رجسٹریشن کی عدم موجودگی، غیر معیاری اسٹوریج، ورکرز کی ناقص ذاتی صفائی اور فوڈ سیفٹی ایس او پیز پر عدم عملدرآمد کے باعث موقع پر سیل کردیا گیا۔
مختلف اضلاع میں کیے گئے معائنے کے دوران جنرل اسٹورز، بیکریوں، ریسٹورنٹس، فاسٹ فوڈ پوائنٹس، دودھ کی دکانوں اور واٹر پلانٹس سمیت متعدد فوڈ یونٹس کی جانچ پڑتال کی گئی۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق جنرل اسٹورز سے زائدالمیعاد کولڈ ڈرنکس، بسکٹس، چپس، مصالحہ جات، جوسز اور دیگر غیر معیاری اشیاء برآمد ہوئیں جن پر جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ بیکری یونٹس میں کھلی خوراک، بغیر لیبلنگ ( MFG/EXP تواریخ) مصنوعات، ورکرز کی ناقص ذاتی صفائی اور حشرات کی موجودگی جیسے سنگین مسائل سامنے آئے۔ ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس میں کھلے کوڑے، غیر محفوظ فوڈ ہینڈلنگ، کچا اور پکا کھانا اکٹھا رکھنے، پی پی ایز کے استعمال نہ ہونے اور ممنوعہ چائنیز نمک کے استعمال جیسی خلاف ورزیاں پائی گئیں۔
ملک شاپس اور واٹر پلانٹس کے معائنے کے دوران کھلے دودھ کی غیر محفوظ فروخت، ناقص اسٹوریج اور آر او پلانٹس میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی عدم دستیابی سامنے آئی، جس پر مالکان کو فوری بہتری کی ہدایت اور رجسٹریشن حاصل کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی۔ متعدد یونٹس سے چائنیز نمک، گٹکا/ماوا، ایکسپائرڈ بسکٹس، جوسز اور غیر معیاری فوڈ کلرز بھی برآمد کرکے موقع پر تلف کر دیے گئے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق مجموعی طور پر 159 یونٹس کا معائنہ کیا گیا، 32 یونٹس کو جرمانہ، 63 کو بہتری نوٹسز جبکہ ایک یونٹ کو سیل کیا گیا۔ مزید یہ کہ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں۔حکام نے واضح کیا کہ بغیر فوڈ بزنس لائسنس کاروبار کرنا قانوناً جرم ہے اور ایسے یونٹس کو کسی صورت کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر فوڈ سیفٹی ایس او پیز، حفظان صحت اصولوں اور قانونی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی
