اسلام آباد،حکومت نے 28ویں آئینی ترمیم پر مشاورت تیز کر دی ہے۔ پیپلز پارٹی نے مذید رعایتیں دینے کی پیش کش، اتحادی جماعتوں میں اتفاق رائے کے بعد اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا امکان ہے۔
وفاقی دارلحکومت کے ایوانوں میں 28ویں ترمیم کے حوالے سے غیر معمولی سیاسی و پارلیمانی سرگرمیاں جاری ہیں۔
حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے بل کچھ تحفظات اب بھی موجود ہیں۔ انہیں دور کرنے کے لیے وزیراعظم سمیت سینیٹر رانا ثناءاللہ اور اسحاق ڈار سمیت ن لیگ کے دیگر قائدین متحرک ہیں اور اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کو بعض رعایتیں دینے کی پیش کش بھی کی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان ترامیم کا بنیادی مقصد مقامی حکومتوں (لوکل باڈیز) کو مضبوط بنانا، نیشنل فنانس کمیشن (NFC) اور مالیاتی امورسمیت صحت، تعلیم اور دیگر عوامی مسائل کو وفاق کے زیر کنٹرول لانا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام یا انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں بھی زیر بحث ہیں۔حکومت کا موقف ہے کہ یہ ترمیم عوامی مسائل کے حل کے لیے لائی جا رہی ہے، ذرائع کے مطابق 28ویں ترمیم حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ آئینی ترمیم اور بعض قوانین میں ترامیم کےلئے تین سے چار مسودے تیار کئے گئے ہیں اور انھی مسودوں پر روزانہ کی بنیاد پر مشاورت جاری ہے۔ آئینی ترامیم میں نئے این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ ساتھ نہروں والا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔
وفاقی حکومت مذید بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہے اور تجویز ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کیا جائے۔
اس پروگرام کی مد میں وفاقی حکومت سالانہ 700 ارب سے زائد کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دفاع،قرضوں اور سود کی ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ صوبے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بوجھ خود اٹھائیں اور فنڈز بھی مختص کریں۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے ابھی تک ان تجاویز پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے کیونکہ:پیپلز پارٹی 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تحفظات رکھتی ہے اور ابھی تک اس کی مکمل حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔
پارٹی کی قیادت صوبائی خودمختاری 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات اور خودمختاری کو کمزور کرنے والی کسی بھی شق کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا شیئر کم نہیں ہونا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کو بلدیاتی نظام کی مضبوطی، صحت، تعلیم جیسے شعبوں میں وفاقی دخل یا اختیارات کی منتقلی پر بھی تحفظات ہیں پارٹی کا موقف ہے کہ ترمیم کا حتمی مسودہ ابھی تک ان کے ساتھ مکمل طور پر شیئر نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی دو تہائی اکثریت کے لیے اہم ہے، اس لیے اس کی حمایت کے بغیر ترمیم منظور کرنا مشکل ہے۔ ذرائع کے مطابق اگلے ہفتے 21 مئی تک بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا ہدف ہے، اس لیے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کی کوششیں تیز ی سے جاری ہیں
