احمدخان اچکزئی
محترم قارئین ۔ میرا نام احمد خان ولد حاجی محمد خان ولد زقوم خان ولد اکبر خان ولد مدت خان ہے، جن کا خاندانی سلسلہ غیبیزئی سے ہوتا ہوا بادنزئی اور اچکزئی تک جاتا ہے۔ ہمارا آبائی مسکن توبہ اچکزئی ہے، جو حالیہ پاکستان میں چمن سے 30 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ ہمارا قبیلہ موسمی ہجرت کے تحت سردیوں میں گلستان، قلعہ عبداللہ اور چمن جبکہ گرمیوں میں توبہ اچکزئی میں قیام کرتا تھا۔1839 میں جب انگریز افواج شاہ شجاع کو براستہ سندھ و بلوچستان کابل کے تخت پر بٹھانے کے لیے لے جا رہی تھیں، تو کوئٹہ سے 30 کلومیٹر دور ہیکلزئی کے مقام پر ان کا راستہ روکا گیا۔ قلعہ عبداللہ سے مدت خان غیبیزئی کی قیادت میں 4000 جنگجوؤں پر مشتمل قبائلی لشکر نے ترین قوم کے ہمراہ سرانان اور پشین کے درمیان جنرل انگلینڈ کی فوج کا شجاعت سے مقابلہ کیا۔ اگرچہ غیبیزئی اور ترین قبیلے نے مل کر انگریزوں کو زبردست جانی نقصان پہنچایا، لیکن جنرل انگلینڈ کے ماتحت شاہ شجاع کے تقریباً 34 ہزار سپاہیوں، 40 ہزار بنگال ٹائیگرز اور مجموعی طور پر 150000 کے قریب لشکرِ جرار نے اپنی کثیر تعداد کے بل بوتے پر قبائلی حصار توڑا اور قندھار کی طرف پیش قدمی کی۔بعد ازاں، 1888 میں دوسری افغان اینگلو جنگ کے دوران انگریزوں نے دوبارہ حملہ کیا، جو میری تیسری پشت میں میرے پردادا اکبر خان کا دور تھا۔ اس وقت اچکزئی کی دو بڑی شاخوں بادین زئی اور گجن زئی کے تین اہم ترین خاندانوں کے سربراہان نے اس جارحیت کے خلاف سر جوڑے۔ ان خاندانوں میں گلئی (ہمارا خاندان) کی نمائندگی قوم کے سربراہ اکبر خان، سخئی (جیلانی خان شہید و مشر اصغر خان کا خاندان) کی نمائندگی اصغر خان کے پڑدادا پارالدین خان اور مراد زئی کی نمائندگی حاجی بہرام خان کے پڑدادا کر رہے تھے۔ مشترکہ مشاورت میں انگریز کے خلاف صف آرا ہونے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن جب میرے پردادا اکبر خان نے شیلا باغ ٹنل پر باقاعدہ جنگ کا آغاز کیا، تو پارالدین خان نے شیلا باغ ٹنل کے اوپر کوژک پاس کے مقام پر انگریزوں سے معاہدہ کر لیا۔ اس سمجھوتے کے تحت عشیزئی قوم نے جنگ سے لاتعلقی اختیار کر لی، جس کے عوض انگریز حکومت نے انہیں چمن میں وسیع اراضی، لیویز اور ریلوے کی نوکریاں دیں، جبکہ بہرام خان کے آباؤ اجداد کو نالئی بند خوشدل خان کے قریب بہت ساری زمینیں نوازی گئیں۔گجن نیکہ کی اولاد کے اس فیصلے نے ہمارے قبیلے کو میدانِ جنگ میں اکیلا کر دیا، لیکن اس کے باوجود غیبیزئی لشکر نے اکیلے ہی انگریزوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی اور ان کے ریلوے روٹ کی تعمیر میں شدید رکاوٹیں کھڑی کیں۔1893 میں جب ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ہوا اور ہمارے آبائی علاقے برطانوی ہندوستان کی حدود میں شامل کر دیے گئے، تو اس نئی جغرافیائی صورتحال کے باعث براہِ راست لڑنا ممکن نہ رہا۔ چنانچہ، ہمارے پورے غیبیزئی قبیلے نے اپنے کمانڈر اور میرے دادا زقوم خان کی قیادت میں ہجرت کی اور ڈیورنڈ لائن کے اس پار، افغانستان میں چمن سے 20 میل مغرب کی طرف ریگستان میں سکونت اختیار کر لی۔ وہاں سے یہ سرفروش انگریز فوج پر مسلسل گوریلا حملے کرتے رہے۔ من الحیث القوم یہ منفرد اعزاز صرف غیبیزئی قبیلے کے حصے میں آیا ہے کہ وطن کی آزادی کی خاطر انگریزوں سے لڑتے لڑتے جب ان کا اپنا علاقہ برطانوی ہند میں شامل ہوا، تو انہوں نے ڈیورنڈ لائن کے پار جا کر بھی اپنی مسلح جدوجہد کو سرد نہیں ہونے دیا۔شومیٔ قسمت کہ انگریزوں نے غیبیزئی قبیلے کی اس سخت مزاحمت کو توڑنے کے لیے اچکزئی قوم ہی کے بعض عناصر پر مشتمل "چغہ” پارٹی کے نام سے ایک کٹھ پتلی تنظیم بنائی۔ یہ تنظیم وقت فوقت انگریزوں کی شہ اور ان کی فوج کے ہمراہ ہماری آبادیوں پر حملہ آور ہوتی رہی، مگر ہر بار انہیں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی تاریخی شکست اور پرانی عداوت کی پاداش میں، چغہ پارٹی اور ان کی اولادیں آج تک ہمارے قبیلے کی کردار کشی کی مذموم مہم میں پیش پیش ہیں۔
