کوئٹہ،:عدالتِ عالیہ بلوچستان کے چیف جسٹس محمد کامران ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچنے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BDA) کے چیئرمین اور ڈائریکٹر کی تقرری و توسیع سے متعلق اہم آئینی درخواستوں نمبر 399 اور535 آف 2025 کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔عدالت نے اپنے مشترکہ فیصلے میں قرار دیا کہ جواب دہندہ نمبر 5، جاوید خان، کوبطور ڈائریکٹر بی ڈی اے سروس میں توسیع اور بعد ازاں چیئرمین بی ڈی اے کی حیثیت سے تعیناتی بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹیایکٹ 1974 اور بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BPS-16 اور اوپر) سروس رولز 2024 کے منافی اور قانونی اختیار کے بغیر کی گئی۔
عدالت کے مطابق جاوید خان 28 فروری 2025 کو ریٹائر ہو چکے تھے، تاہم حکومت بلوچستان نے 06 فروری 2025 کے نوٹیفکیشنکے ذریعے انہیں مزید تین سال کے لیے بطور ڈائریکٹر خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی اور بعد ازاں یکم مارچ 2025 کو انہیںچیئرمین بی ڈی اے مقرر کر دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ توسیع اور تقرری متعلقہ سروس رولز میں درج اہلیت، طریق? کار اورقانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھی۔فیصلے میں کہا گیا کہ رول 18 کے تحت کسی بھی ریٹائرڈ افسر کی دوبارہ ملازمت صرف غیرمعمولی حالات میں، اتھارٹی کے مفاد اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پیشگی منظوری سے ممکن ہے، جبکہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد پیشنہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ جاوید خان کی دوبارہ ملازمت ناگزیر تھی یا بورڈ نے پیشگی منظوری دی تھی۔عدالت نے یہ بھیقرار دیا کہ چیئرمین بی ڈی اے کا عہدہ قواعد کے مطابق صرف BCS/BSS کیڈر کے مساوی گریڈ کے حاضر سروس افسران میں سےپُر کیا جا سکتا ہے، جبکہ جواب دہندہ ریٹائرمنٹ کے بعد نہ تو حاضر سروس تھے اور نہ ہی متعلقہ کیڈر سے تعلق رکھتے تھے، لہٰذا انکی تعیناتی قواعد کے صریح خلاف تھی۔
بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عوامی عہدوں پر تقرریاں صرف قانون کے مطابق کی جا سکتی ہیں اور کسی بھی انتظامی یاسیاسی منظوری کے ذریعے قانونی قواعد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعد ازاںپیش کیے گئے بورڈ اجلاس کے منٹس میں خود جواب دہندہ نے اپنی تقرری کی توثیق کے اجلاس کی صدارت کی، جو شفافیت اور غیرجانبداری کے اصولوں کے منافی ہے۔
عدالت نے درخواست گزاروں کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ غیر قانونی توسیع نے بی ڈی اے کے اہل افسران کے ترقی کےحق کو متاثر کیا اور قواعد کے تحت ان کے جائز قانونی حقوق سلب کیے گئے۔عدالت عالیہ بلوچستان نے اپنے فیصلے میں 06 فروری2025 اور یکم مارچ 2025 کے تمام متعلقہ نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ بلوچستانڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1974 اور سروس رولز 2024 کے مطابق فوری طور پر مستقل چیئرمین اور دیگر متعلقہ عہدوں پر تقرریاں عملمیں لائے۔عدالت نے موجودہ عہدے دار کو 24 گھنٹوں کے اندر چارج چھوڑنے کا بھی حکم دیا۔یہ تفصیلی فیصلہ عدالت کے اُسمختصر حکم نامے کی وجوہات پر مشتمل ہے جو پہلے ہی سنایا جا چکا تھا۔
