اسلام آباد: وفاقی وزیر احد چیمہ اور وزیراعظم آفس کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ کی زیر صدارت نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے فروغ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احد چیمہ نے کہا کہ نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان ایک جامع قومی فریم ورک ہے، جس کے کامیاب نفاذ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت آئندہ وفاقی بجٹ سے قبل مکمل کرلی جائے گی تاکہ اگلے مالی سال کے لیے وسائل کی بہتر اور مؤثر منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے صوبائی حکومتیں اپنی تجاویز بروقت وزارت آئی ٹی کو ارسال کریں گی، جبکہ نئے ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا خصوصی کالم شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل معیشت اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔احد چیمہ کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان کا سب سے زیادہ فائدہ عام شہریوں کو ہوگا، کیونکہ تعلیم، صحت، ٹیکسیشن اور دیگر شعبوں میں عوامی خدمات کو مرحلہ وار ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن سے انسانی مداخلت کم ہوگی اور شہریوں کو بنیادی سرکاری سہولیات کے حصول کے لیے دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے وڑن کے مطابق ای آفس سمیت متعدد ڈیجیٹل اقدامات کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں اور حکومت نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان کو بھی کامیاب بنانے کے لیے پْرعزم ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، سیکریٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان، چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل منیر سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی
