وحید پر 10 پرچے ہیں، لڑکی نے تصویر دیکھ کر پہچانا، اس کے بعد کارروائی کی گئی؛ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی پریس کانفرنس
لاہور(الفجر آن لائن)ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ رضا ڈار کیس میں کسی اور کے باس ہونے کی بات بالکل غلط ہے، ملزم وحید پر 10 پرچے ہیں، لڑکی نے اس کی تصویر دیکھ کر جب اسے پہچانا تو اس کے بعد کارروائی کی گئی، ایف آئی آر میں درج تفصیلات خاتون نے خود لکھی ہیں، ایف آئی آر میں جو کسی کا دل چاہے وہ لکھ سکتا ہے۔
اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ’15’ پر سب سے پہلی کال پاکستان سے نہیں بلکہ اسپین سے آئی تھی، جس کی آڈیو ریکارڈنگ پولیس کے پاس موجود ہے، متاثرہ لڑکی کے والد جب اسپین کی پولیس کے پاس موجود تھے تو انہیں یہاں سے تاوان کی کالز موصول ہو رہی تھیں اور بیٹی کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے مار کر پھینکنے کی سنگین دھمکیاں دی جا رہی تھیں، انہوں نے ہی اغوا کار کی تفصیلات پولیس کو مہیا کیں۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا کہنا ہے کہ پولیس نے جب ڈیفنس میں اس گھر پر چھاپہ مارا تو معلوم ہوا کہ ملزمان کچھ عرصہ وہاں کرائے پر رہے اور پھر چلے گئے، اس کے بعد پولیس نے ڈار فیملی سے رابطہ کیا جہاں سے مرکزی ملزم رضا ڈار کی تفصیلات ملیں اور اسے ٹریس کرنا شروع کیا گیا، سیف سٹی کیمروں کی مدد سے رضا ڈار کی کار کی لوکیشن ٹریس ہوئی، جس کے بعد ملزم کو کال کرکے سرینڈر کرنے کا کہا گیا اور پھر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
فیصل کامران نے بازیابی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ملزم رضا ڈار لڑکیوں کو یہ کہہ کر گاڑی میں بٹھا کر لے جانے لگا کہ ‘مجھے پیسے مل گئے ہیں اور اب معاملہ ختم ہو گیا ہے، میں تمہیں ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہا ہوں ‘، تاہم جب گاڑی بھٹہ چوک کی طرف سے جانے لگی تو لڑکیوں کو شک ہوا یہ انہیں ایئرپورٹ کے بجائے کہیں اور لے کر جا رہا ہے، اسی دوران راستے میں گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا جس کا فائدہ اٹھا کر لڑکیاں گاڑی سے بھاگیں اور ایک دکان میں گھس گئیں، اطلاع ملتے ہی پولیس فوری موقع پر پہنچی اور سب سے پہلا کام یہ ہوا کہ لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی کہ پولیس نے انہیں برآمد نہیں کیا اور کہا کہ پولیس کے پاس اس کا تمام ریکارڈ موجود ہے، ان خواتین کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے سفارت خانوں سے رابطہ کیا گیا، اسپین کی ایمبیسی نے بتایا متاثرہ لڑکی دراصل ونزویلا کی شہریت رکھتی ہے اور وہ اسپین کی صرف رہائشی ہے، پاکستان میں ونزویلا کی کوئی ایمبیسی نہیں ہے، ہالینڈ کی ایمبیسی نے مکمل تعاون کا یقین دلایا جس کے بعد متاثرہ خاتون سے بات چیت کی گئی اور لڑکی کا میڈیکل معائنہ کروایا گیا۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ اگلے دن لڑکیوں کی علی الصبح فلائٹ تھی اور قانون کے مطابق ہمیں دفعہ 164 کے بیان کے لیے انہیں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی تھا۔ اسی دوران ایس ایچ او مجسٹریٹ کے گھر گیا جہاں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، جس پر میں پبلک کے سامنے معذرت چاہتا ہوں، ڈچ ایمبیسی چاہتی تھی کہ لڑکی فوری پاکستان سے نکلے اور وہ بقیہ کارروائی اپنے ملک میں کریں گے، لیکن پولیس نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ایک دن مزید مانگا اور لڑکیوں کے ٹکٹ کا تمام خرچہ لاہور پولیس کی جانب سے ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ان کا کہنا ہے کہ اگلے دن ڈچ ایمبیسی کی نمائندہ خاتون کی موجودگی میں عدالت کے اندر لڑکیوں کے دفعہ 164 کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے، اس کے بعد خواتین کو مکمل سیکیورٹی اور حفاظت میں رکھا گیا اور رات کو پولیس نے خود انہیں ایئرپورٹ چھوڑا، لڑکیوں نے کہا کہ ‘ہمارے لیے یہ بہت برا واقعہ تھا، لیکن یہاں کے اداروں اور پولیس نے ہمارے ساتھ جس طرح تعاون کیا، ہم اس سے انتہائی مطمئن ہیں، ہمیں جاتے ہوئے آپ کے ملک کا جھنڈا مہیا کیا جائے’، پولیس نے رات ساڑھے تین بجے انہیں پاکستان کا جھنڈا فراہم کیا جس کے بعد وہ اپنے ممالک روانہ ہوئیں۔انہوں نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اگلے روز ملزمان کو باقاعدہ ہتھکڑیوں میں عدالت پیش کیا گیا، کیس کی ایف آئی آر، میڈیکل رپورٹ، بیانات اور لڑکیوں کا جو بھی سامان ملا، وہ سب وقت پر برآمد کر کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور تمام قانونی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں، میڈیا میں اب تک گفتگو اس لیے ہوتی رہی کیونکہ پبلک کے پاس مکمل معلومات نہیں تھیں، لیکن پولیس تمام کرداروں کی گرفتاری کا انتظار کر رہی تھی۔

