ایران( الفجرآن لائن) ایران کے دارالحکومت تہران میں گزشتہ روز اسرائیل کے فضائی حملے میں جاں بحق ہونے والے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ مصلای امام خمینی میں منعقدہ اس بڑے اجتماع میں مرحوم کے تین بیٹوں مصطفیٰ، مسعود اور میثم خامنہ ای نے عوامی سطح پر شرکت کی اور اپنے والد کی میت کے پاس سوگ منایا۔ تاہم، سب کی نظریں کےدوران کہیں نظر نہیں آئے۔

سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والی لائیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ مرحوم سپریم لیڈر کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای، اور اشاعتی امور کے سربراہ مسعود خامنہ ای انتہائی غمزدہ حالت میں تابوتوں کے پاس موجود تھے ۔ نمازِ جنازہ کی صفِ اول میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود تھے جنہوں نے صف اول میں کھڑے ہو کر جنازے کی قیادت کی۔ علی خامنہ ای کے ساتھ حملے میں جاں بحق ہونے والے ان کے خاندان کے دیگر چار ارکان، بشمول ان کی بیٹی اور ایک 14 ماہ کی پوتی کے تابوت بھی وہاں رکھے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جنازے میں عدم شرکت کی بڑی وجہ ان کے شدید زخم اور سیکیورٹی خدشات ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 28 فروری کو ہونے والے اسی بم دھماکے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی شدید زخمی ہوئے تھے، جس میں ان کا چہرہ اور ٹانگیں متاثر ہوئیں۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی خطرات کے پیشِ نظر پاسدارانِ انقلاب نے انہیں کسی بھی کھلے عوامی اجتماع میں آنے سے سختی سے منع کیا ہے ۔ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو قم اور عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جائے جانے کے بعد مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا، جہاں مجتبیٰ خامنہ ای کی نجی طور پر تدفین میں شرکت متوقع ہے

