کوئٹہ(الفجرآن لائن)بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے سیاحتی اور نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں اتوار کے روز مسلح دہشت گردوں اور مقامی شہریوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی ہے۔ فائرنگ کے اس افسوسناک واقعے میں 4 مقامی افراد شہید جبکہ 9 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے فوری طور پر کوئٹہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق مسلح افراد کے حملے کے بعد مقامی شہریوں نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور ان کا مقابلہ کیا۔ جھڑپ میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز شہریوں کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے ایک شخص کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جس کی وجہ سے ہسپتال انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری ہنہ اوڑک پہنچ گئی ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر مسلح افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ مقامی عوام سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دہشت گردوں کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سکیورٹی حکام کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

