کوئٹہ( الفجرآن لائن)بلوچستان کے علاقے ہنہ اوڑک کے گاؤں کلی بابری میں مسلح افراد کے حالیہ حملے کے بعد سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ واقعے کے فوری بعد صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ہنہ اوڑک اور ایئرپورٹ کے نواحی علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا۔ انہوں نے جائے وقوعہ کلی بابری پہنچ کر سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا اور مقامی انتظامیہ کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت ہدایات جاری کیں۔
دورے کے دوران وزیر داخلہ نے احتجاج کرنے والے مظاہرین اور قبائلی عمائدین سے کامیاب مذاکرات کیے۔ میر ضیاء اللہ لانگو نے مسلح حملے میں شہید ہونے والے مقامی افراد کے لواحقین اور قبائل سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے اور ظالم عناصر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہو گی۔
علاقے میں دیرپا امن کی بحالی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے صوبائی وزیر داخلہ نے کلی بابری میں ایک مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مقامی نوجوانوں اور عمائدین کو یقین دلایا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور واقعے میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا

