نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس کی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ خطے میں جنگ کی صورتحال ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں، وزیراعظم اس متعلق بہت فکر مند ہیں اور وزیراعظم نے آج خود میٹنگ کی ہےجس میں صورتحال کاجائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ کتنا اضافہ کرنا ہے، متوازن کرکے ہم نے کوئی راستہ نکالنا تھا، ہم نے دوسرے ملکوں کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے، پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ساتھیوں کو ساتھ ملا کر کشیدگی کم کرائی جائے، اس کشیدگی کو کم کرنے میں کتنی دیر لگے گی دیکھنا ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی دوسرے ممالک سے اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ پانچ روز گزر چکے ہیں روز جائزہ لیتے ہیں، قیمتوں میں ہر روز خطیر اضافہ ہورہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ آج رات سے ہوگا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھاکہ کوئی شک نہیکہ ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں، پڑوس میں شروع ہونے والی صورتحال نےپورےخطےکو لپیٹ میں لے لیا ہے، ہم نے صورتحال کے مطابق اپنے ذخائر کو بڑھا لیا تھا اور ہماری کوشش ہےکہ بطور ریاست اس کام کو حکمت کے تحت آگےلےکرچلیں۔
انہوں نے علان کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا مشکل فیصلہ کیا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ مجبوری میں کیا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا فیصلہ کیا گیا جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے اسی پھرتی کے ساتھ قیمتیں کم کریں گے اور ہم ہفتہ وار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیں گے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگی۔
