وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی نے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔
ان کا کہنا تھا کہ جعلی حکومت نے پیٹرول کا ایٹم بم گرایا ہے، صوبائی حکومت پیٹرول میں اضافہ مسترد کرتی ہے، وفاق صوبوں کو اعتماد میں لے، یہ اچھی بات ہے، وفاق کو اپنی شاہ خرچیاں کم کرنی چاہیے نہ کے عوام پر بوجھ ڈال دیں۔
کورونا میں جب ہم نے پیٹرول مہنگا کیا تو یہ لوگ اس پر سیاست کررہے تھے
، پنجاب میں سیلاب آ یا تو ہم نے ان کا ساتھ دیا ، ہم نے سیاست نہیں کی، کراچی میں گل پلازہ آگ کی لپیٹ میں آیا ہم نے سیاست نہیں کی، نواز شریف کے پلیٹلیس گر گئے اس پر ہم نے سیاست نہیں کی لیکن بانی پی ٹی آئی کی صحت کی بات ہے تو یہ اس پر سیاست کررہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت خیبر پختونخوا نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبے میں اس وقت تقریباً 14 سے 16 لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں،
ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل استعمال کرنے والے کو 2200 روپے دیے جائیں گے تاکہ عوام کو سفری اخراجات میں ریلیف مل سکے۔
ان کا کہنا تھاکہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، بی آر ٹی کے کرایوں میں بھی اضافہ نہیں کررہے ،حکومت خود خرچہ اٹھائے گی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھاکہ ہم نے نئی گاڑیوں کی خرید وفروخت پر پابندی لگائی ہے،
بین الاقوامی دوروں پر بھی پابندی عائد کی ہے،ہمارا ہیلی کاپٹر کریش کر گیا ہے لیکن ہم پھر بھی ہیلی کاپٹر نہیں لے رہے،
دوسری طرف یہ لوگ اپنے لیے پرائیویٹ جیٹ خرید رہے ہیں، اپنی شاہ خرچیاں کم نہیں کررہے اورعوام پر 55 روپےفی لیٹرپیٹرول کا ایٹم بم گرا رہے ہیں۔
