اسلام آباد آئی ایم ایف مشن بجٹ کی تیاریوں کے حوالے سے(آج) بدھ کے روز پاکستان پہنچے گا، پاکستانی اتھارٹیز اور آئی ایم ایف مشن کے مابین بجٹ اور اہم معاشی اہداف پر بات چیت ہوگی۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق بات چیت کے دوران آئندہ مالی سال کیلئے سبسڈیز پر آئی ایم ایف کو اعتماد لیا جائیگا، آئی ایم ایف نے سبسڈیز محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن اور حکومت کی آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بات چیت کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف مشن آئندہ مالی سال کے بجٹ اہداف کا جائزہ لینے پاکستان آئے گا، آئی ایم ایف مشن کو آئندہ مالی سال کے اہم اہداف پر اعتماد میں لیا جائے گا، ایف بی آر ٹیکس ہدف سمیت نان ٹیکس ریونیو اہداف سے آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع وزرات خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال میں دی جانے والی سبسڈیز پر آئی ایم ایف کو اعتماد لیا جائے گا، آئی ایم ایف نے سبسڈیز کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے، آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک لین دین کی نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور غیر ٹیکس شدہ اور کالے دھن کا بڑا حصہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں لگائے جانے‘رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک مالی لین دین کی رپورٹنگ کم تعداد ہونے پر آئی ایم ایف نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ میں اضافے کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں،بینیفیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے سے متعلق خامیوں کو ختم کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو مالیاتی نگرانی، منی لانڈرنگ اور بینکاری شعبے کے حوالے سے تحفظات ہیں،نامزد غیر مالیاتی کاروباری شعبوں کیجانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی تعداد کم ہے، ایف بی آر نے ہاؤسنگ سوسائٹیز پر چھاپے مار کر خفیہ آمدن چھپانے کے الزامات کی تحقیقات کی، ایف بی آر م کے تحت رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی نگرانی کیلئے ڈی این ایف بی پی ایک نظام قائم کیا تھا۔ذرائع کے مطابق ڈی این ایف بی پی کے تحت مشکوک لین دین کی رپورٹس ایف ایم یو کو بھیجی جاتی ہیں، آئی ایم ایف نے ڈی این ایف بی پی کے اس نظام کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا
