اسلام آباد: پاکستان نے ایرانی طیاروں کی موجودگی کے حوالے سے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دے کر مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں کھڑا ایرانی طیارہ جنگ بندی کی مدت کے دوران پہنچا جس کا کسی بھی فوجی ہنگامی صورتِ حال یا تحفظ کے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں‘ اس کے برعکس دعوے قیاس آرائی، گمراہ کن اور حقائق سے مکمل طور پر متصادم ہیں، پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیری اور ذمے دار سہولت کار کا کردار ادا کیااورامن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے عزم پر قائم ہے اور مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
منگل کو جاری ایک بیان میں ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد اور اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی دور کے دوران، ایران اور امریکہ کے متعدد طیارے پاکستان آئے‘امریکی و ایرانی طیارے مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی عملے، سکیورٹی ٹیمز اور انتظامی اہلکاروں کی نقل و حرکت کے لئے تھے‘ بعض طیارے اور معاون عملہ آئندہ مذاکراتی ادوار کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے‘ باضابطہ مذاکرات تاحال دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطح سفارتی روابط جاری ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کو موجودہ لاجسٹک اور انتظامی انتظامات کے تحت سہولت فراہم کی گئی‘ پاکستان میں موجود ایرانی طیارے جنگ بندی کے دورانیے میں آئے تھے، ایرانی طیاروں کی آمد کا مقصد کسی بھی فوجی ہنگامی صورتحال یا حفاظتی انتظام سے کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ حقائق کے برعکس تمام دعوے محض قیاس آرائیاں، گمراہ کن اور حقائق سے مکمل طور پر لاتعلق ہیں، پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیری اور ذمہ دار سہولت کار کے طور پر مکالمے اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت کی۔ دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ضرورت کے مطابق معمول کی لاجسٹک اور انتظامی معاونت فراہم کی، پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مکمل شفافیت اور مسلسل رابطہ بھی برقرار رکھا، پاکستان خطے اور دنیا میں مکالمے کے فروغ، کشیدگی میں کمی، اور امن، استحکام اور سلامتی کے عزم پر قائم ہے۔
