کوئٹہ (الفجرآن لائن) بلوچستان فوڈ اتھارٹی (بی ایف اے) نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کارروائی کی ہے۔ حکام نے اسپنی روڈ اور سی پیک روڈ کے اطراف وسیع اراضی پر زہریلے پانی سے اگائی جانے والی خوردنی فصلوں کو موقع پر ہی تلف کر دیا۔ بی ایف اے کی خصوصی ٹیموں نے ان علاقوں میں ملحقہ نالوں کے گندے پانی سے سیراب ہونے والی سبزیوں کو ہل چلا کر ضائع کیا، جن میں گوبھی، دھنیا اور پودینہ سمیت متعدد روزمرہ استعمال کی سبزیاں شامل تھیں۔
ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے اس موقع پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت عالیہ کے احکامات اور حکومتی پابندی کے باوجود سیوریج کے پانی سے خوردنی فصلیں اگانا سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ زہریلے پانی سے تیار کردہ یہ سبزیاں انسانی صحت کے لیے فائدے کے بجائے کینسر اور پیٹ کی مہلک بیماریوں کا باعث بن رہی ہیں، جس کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ قوانین کے تحت سیوریج کا پانی صرف غیر خوردنی فصلوں کی کاشت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ کوئٹہ کے شہریوں کو بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ بی ایف اے نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آئندہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاشتکاروں اور زمینداروں کے خلاف نہ صرف فصلیں تلف کی جائیں گی، بلکہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور مقدمات بھی درج کروائے جائیں گے

