واشنگٹن / تہران(ویب ڈیسک)امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری جنگ بندی کا معاہدہ مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد امریکی فوج نے مسلسل تیسرے دن ایران پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے متعدد فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنا اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے، جہاں اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اب تک ایران کے تقریباً 140 فوجی مراکز تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں فضائی دفاعی نظام ساحلی ریڈار، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس شامل ہیں۔ اس کارروائی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ امریکی تاریخ میں پہلی بار "کورسیر” نامی خودکار بحری ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جنہوں نے بندر عباس نیول بیس پر ایرانی آبدوزوں اور بحری جہازوں کی مرمت کے مرکز کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ عمان کی سمندری حدود میں ان کے دو بڑے آئل ٹینکرز، ‘ممباسا’ اور ‘الباھیہ’ پر ایرانی کروز میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ ان حملوں میں ایک بھارتی شہری ہلاک اور آٹھ دیگر عملے کے ارکان زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے فوراً بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز کا "محافظ” بن کر کام کرے گا اور وہاں سے گزرنے والے بین الاقوامی مال بردار جہازوں سے 20 فیصد تک "حفاظتی فیس” وصول کی جائے گی۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ تجارتی راستہ اب بھی کھلا ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں کویت، بحرین، اردن، قطر اور عمان میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ اس نئی جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد اضافے کے ساتھ 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، اور عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

