امریکہ/ایران ( ویب ڈیسک) واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری شدید عسکری تناؤ کے دوران، امریکی افواج نے ایران میں مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملوں کا ایک اور بڑا سلسلہ شروع کر دیا ہے. امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، ان تازہ کارروائیوں کا مقصد ایران کی ساحلی دفاعی تنصیبات، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس، اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنانا ہے. امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں. دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے بندر عباس، جزیرہ قشم اور دیگر ساحلی علاقوں میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی تصدیق کی ہے.
فضائی کارروائیوں کے ساتھ ہی، امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں، آئل ٹرمینلز اور ساحلی پٹی پر باقاعدہ طور پر سخت بحری ناکہ بندی نافذ کر دی ہے. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی کارگو پر 20 فیصد فیس وصول کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ہنگامی مذاکرات کے بعد انہوں نے اس فیس کی تجویز واپس لے لی ہے. صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک نے فیس کے بجائے امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے. اس ناکہ بندی کے تحت ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے یا وہاں سے آنے والے تمام مشتبہ جہازوں کی تلاشی لی جائے گی، تاہم غیر جانبدار ممالک کی تجارتی آمدورفت کے لیے راستے کھلے رکھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے.
امریکی اقدامات کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے. اس کے علاوہ، خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات اور ہالینڈ کے تجارتی آئل ٹینکرز پر بھی میزائل حملے کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور جہازوں میں آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں. تہران نے دھمکی دی ہے کہ جب تک امریکی فوجی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں، خطے سے تیل اور گیس کی برآمدات کو معطل رکھا جائے گا، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں یکدم 10 فیصد تک کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی اس انتہائی کشیدہ صورتحال اور فضا میں میزائلوں اور ڈرونز کی مسلسل پروازوں کے پیشِ نظر یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے ایک ہنگامی سفری الرٹ جاری کیا ہے. ایجنسی نے تمام بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور خلیجِ عمان کی فضائی حدود کے استعمال سے مکمل گریز کریں تاکہ مسافر طیاروں کی حفاظت کو ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جا سکے.

