ضبط شدہ چاندی کو تبدیل کرنے کے واقعہ میں ملوث کسٹمز کے مزیدافسران کو معطل کردیا گیا۔اتوار کو ایف بی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گذشتہ پیر کے روز جاری کی جانے والی خبر کے تسلسل میں پاکستان کسٹمز نے چاندی کو سیسہ میں تبدیل کرنے کے مقدمہ میں مزیدتحقیقات کے بعد ایسے شواہد حاصل کیے ہیں جو چند دیگر کسٹمز افسران اور اہلکاروں کی براہِ راست مداخلت، غفلت اور نااہلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ چنانچہ متعلقہ مجاز حکام کی جانب سے ایک کلکٹر کسٹمز (BS-20)، ایک ڈپٹی کلکٹر کسٹمز (BS-18)، ایک اسسٹنٹ کلکٹر کسٹمز (BS-17) اور تین افسران (BS-16) کو معطل کر دیا گیا ہے۔اسی دوران اس واقعہ کی فوجداری تحقیقات بھی کی جارہی ہیں اور جو افراد جرم میں براہِ راست ملوث پائے گئے انہیں ایف آئی آر نمبر 01 13.04.2026 کے تحت اس فوجداری مقدمہ میں نامزد کیا جائے گا۔ اس جرم سے فائدہ اٹھانے والے دیگر افراد کی بھی نشاندہی کر لی گئی ہے اور انہیں قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے پرانی ٹیم کی جگہ تین نئے افسران کو کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ نئے کلکٹر اور ایڈیشنل کلکٹر پہلے ہی کوئٹہ میں اپنے سرکاری عہدوں کا چارج سنبھال چکے ہیں۔ایف بی آر کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ایف بی آر کی یہ واضح پالیسی ہے کہ کسی بھی سطح اور عہدے سے قطع نظر، بدعنوانی میں ملوث ہر افسر/اہلکار کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔