راولپنڈی (الفجرآن لائن) بلوچستان میں فتنہ الخوارج اور ملک دشمن عناصر کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا گرینڈ "آپریشن شعبان” پوری طاقت کے ساتھ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور پولیس کی مشترکہ اور مؤثر کارروائیوں کے دوران مزید 3 خارجی دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ترین زمینی اور ہوائی وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کیے جانے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران خوارج کے متعدد خفیہ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، صرف "آپریشن شعبان” کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد اب 88 ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، 5 جولائی سے اب تک صوبے کے مختلف حصوں میں جاری تمام تر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور کارروائیوں کو ملا کر مجموعی طور پر 126 خارجی دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور معصوم شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک بلوچستان کی دھرتی سے آخری دہشت گرد کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، یہ آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔

