لاہور (ویب ڈیسک) لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں نیدر لینڈز اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور گینگ ریپ کیس میں اہم ترین سائنسی کامیابی سامنے آئی ہے۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی نے گرفتار ملزمان میں سے تین کے ڈی این اے میچ ہونے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔
پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جائے وقوعہ اور متاثرہ خواتین سے حاصل کیے گئے نمونوں کا آٹھ زیرِ حراست ملزمان کے ڈی این اے سے موازنہ کیا گیا۔ فارنزک تجزیے کے بعد نواز، ساجد اور سکندر نامی تین ملزمان کا ڈی این اے مثبت (پازیٹو) پایا گیا ہے، جو اس گھناؤنے جرم میں ان کی براہِ راست ملوث ہونے کا حتمی ثبوت ہے۔
کیس کا پس منظر اور اغوا کی تفصیلات
پولیس ریکارڈ کے مطابق متاثرہ خواتین میں سٹیفنی (نیدرلینڈز) اور ایسٹرڈ (وینزویلا) شامل ہیں۔ یہ دونوں خواتین اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں کرپٹو کرنسی بزنس کے سلسلے میں احمد رضا ڈار نامی پاکستانی شہری سے ملی تھیں۔ احمد رضا ڈار کی دعوت پر ہی وہ پاکستان آئی تھیں۔
ملزمان نے 29 جون 2026 کو دونوں خواتین کو اسلحے کے زور پر اغوا کیا اور ایک سنسان رہائش گاہ پر لے جا کر انہیں شدید جسمانی تشدد اور گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے خواتین کو یرغمال بنا کر ان کے خاندان سے 15 لاکھ ڈالر (ڈیڑھ ملین ڈالر) تاوان کا مطالبہ بھی کیا اور زبردستی ڈیجیٹل فنڈز منتقل کروائے۔
لاہور پولیس کا فوری ایکشن اور بازیابی
یہ واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک متاثرہ خاتون کے والد نے سپین سے پاکستان پولیس کی ایمرجنسی ہیلپ لائن پر رابطہ کر کے بیٹی کے اغوا کی اطلاع دی۔ لاہور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سیف سٹی کے جدید کیمروں کی مدد سے ملزمان کی گاڑی کو ٹریس کیا اور محض دو گھنٹے کے اندر کارروائی کر کے دونوں غیر ملکی خواتین کو بازیاب کروا لیا۔
قانونی پیش رفت اور ریمانڈ
مقامی عدالت کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے کیس کے مرکزی ملزم احمد رضا ڈار سمیت چار بنیادی ملزمان کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر رکھا ہے۔ پولیس ملزمان سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور لوٹی گئی رقم برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
فارنزک حکام کے مطابق کیس میں نامزد دیگر پانچ مشتبہ افراد کے نمونوں اور جائے وقوعہ سے ملنے والے موبائل فونز کا تفصیلی تجزیہ ابھی جاری ہے، جس کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

