اسلام آباد (الفجرآن لائن) سینٹر فار ایرواسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز نے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کے مستقبل، قانونی چیلنجز اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک آن لائن خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ اس اہم مذاکرے میں نامور ماہرین اور سابق حکام نے شرکت کی، جنہوں نے پانی کے بڑھتے ہوئے بحران اور معاہدے پر بھارت کی جانب سے عائد کردہ حالیہ دباؤ کو تفصیل سے اجاگر کیا۔
سیشن کی نظامت کرتے ہوئے ڈائریکٹر کاس، ایئر مارشل حامد رندھاوا (ریٹائرڈ) نے کہا کہ یہ معاہدہ دہائیوں کی سیاسی کشیدگی کے باوجود قائم رہا، لیکن حالیہ پیش رفت نے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر بھارت کی جانب سے معاہدے کی ذمہ داریوں کو معطل کرنے، متنازع ہائیڈرو انفراسٹرکچر منصوبوں کی تعمیر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے دباؤ کا ذکر کیا، جس کی وجہ سے خطے میں پانی کی سیکیورٹی کے لیے نئے مکالمے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
سابق پاکستان کمشنر برائے انڈس واٹرز، مرزا آصف بیگ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن کے حوالے سے پاکستان کے اعتراضات کو مسلسل التوا میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت پاکستان کے اعتراضات پر بات چیت کو طول دے کر تعمیراتی کام جاری رکھتا ہے تاکہ بعد میں حقائق کو تبدیل کرنا ممکن نہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقل انڈس کمیشن میں سست پیش رفت کی وجہ سے پاکستان کو نیوٹرل ایکسپرٹ اور ثالثی عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے، جو کہ ایک طویل عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ معاہدہ بھارت کے حق میں جھکا ہوا ہے، لیکن یہ اب بھی واحد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک ہے۔
مذاکرے کے اختتام پر صدر کاس، ایئر مارشل جاوید احمد (ریٹائرڈ) نے خبردار کیا کہ بھارت اس اہم معاہدے کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے یرغمال بنا رہا ہے، جس سے علاقائی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی سفارتی اور قانونی کوششوں میں پانی کی سیکیورٹی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر مؤثر وکالت کے ذریعے سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے پانی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے

