20 امیدواروں کے نام زیر غور، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججوں اور سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے سینئر وکلاء کی نامزدگیاں شامل
جوڈیشل کمیشن نے ارکان کو امیدواروں کے سی وی ارسال کر دیے، نامزدگیوں سے متعلق اعتراضات دو روز میں جمع کرانے کی ہدایت
اسلام آباد/کوئٹہ( خانزادہ یونس خلجی) یو این اے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے نئے ایڈیشنل ججوں کی تقرری پر غور کرنے کے لیے اپنا اہم اجلاس 21 جولائی 2026 بروز منگل سہ پہر 3 بجے طلب کر لیا ہے۔ اجلاس سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد کے کانفرنس روم میں منعقد ہوگا، جہاں نامزد امیدواروں کی اہلیت، پیشہ ورانہ تجربے اور دیگر قانونی تقاضوں کا جائزہ لیا جائے گا
یو این اے کو موصول جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق اجلاس کا بنیادی ایجنڈا بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کے لیے مختلف شعبہ ہائے قانون سے تعلق رکھنے والے 20 امیدواروں کے ناموں پر غور کرنا ہے۔ ان امیدواروں میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج، سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکلاء اور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل شامل ہیں جوڈیشل کمیشن کے سامنے جن امیدواروں کے نام پیش کیے جائیں گے ان میں پزیر احمد بلوچ، سعادت اللہ خان بزئی، عبدالقیوم لہڑی، عنایت اللہ خان اور اللہ داد روشن شامل ہیں، جو اس وقت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اسی طرح سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکلاء میں محمدسلیم لاشاری نثار احمد علیزئی، ظہور احمد، نادر علی چلغری، بیرم خان، میر عطاء اللہ لانگو، ایم ذکریا خان ناصر، نصیر احمد، رحمت اللہ، محمد اکرم شاہ، منظور احمد شاہ، محمد رؤف عطا، بیرسٹر امیر محمد لہڑی اور ملاگ عیسیٰ دشتی کے نام شامل کیے گئے ہیں، جبکہ سید ظہور احمد بطور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اس فہرست کا حصہ ہیں جوڈیشل کمیشن کی جانب سے اجلاس میں شریک ہونے والے ارکان کو امیدواروں کے تفصیلی سی وی، پیشہ ورانہ ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات ان کی متعلقہ ای میل آئی ڈیز پر ارسال کر دیے گئے ہیں تاکہ اجلاس سے قبل ہر امیدوار کے قانونی تجربے، عدالتی کارکردگی، پیشہ ورانہ شہرت اور اہلیت کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے
مراسلے میں کمیشن کے ارکان کو یہ ہدایت بھی جاری کی گئی ہے کہ اگر کسی رکن کی جانب سے تجویز کردہ کسی امیدوار کا نام فہرست میں شامل نہیں کیا گیا یا کسی امیدوار کو غلطی سے خارج کر دیا گیا ہو تو وہ مراسلہ موصول ہونے کے دو روز کے اندر جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹریٹ کو تحریری طور پر آگاہ کرے تاکہ اجلاس سے قبل ضروری کارروائی مکمل کی جا سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری عدالتی نظام کے لیے نہایت اہم مرحلہ ہے، کیونکہ اس سے زیر التواء مقدمات کے بوجھ میں کمی، مقدمات کی جلد سماعت اور انصاف کی بروقت فراہمی میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق صوبے میں بڑھتے ہوئے مقدمات کے پیش نظر ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر سمجھا جا رہا ہے یو این اے کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس میں تمام امیدواروں کی قانونی قابلیت، عدالتی خدمات، پیشہ ورانہ شہرت، دیانت داری اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کرے گا۔ بعد ازاں آئینی طریقہ کار کے مطابق تقرری کے اگلے مراحل مکمل کیے جائیں گےبلوچستان کی وکلاء برادری، عدالتی حلقے اور قانونی ماہرین اس اجلاس کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں بلوچستان ہائی کورٹ میں نئے ایڈیشنل ججوں کی تقرری کی راہ ہموار ہوگی، جس سے صوبے کے عدالتی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور انصاف کی بروقت فراہمی میں اہم پیش رفت متوقع ہے


