چولپون آتا (ویب ڈیسک): صدر مملکت آصف علی زرداری نے کرغزستان کے تاریخی چار روزہ سرکاری دورے کے دوران کرغز صدر صدر جباروف سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔ ۲۱ برسوں میں کسی بھی پاکستانی صدر کا کرغزستان کا یہ پہلا دورہ ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ چولپون آتا میں وفود کی سطح پر ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے مختلف شعبوں پر کھل کر بات چیت کی۔
ملاقات کے دوران دونوں صدور نے باہمی تجارت کے حجم کو بڑھا کر ۱۰ کروڑ ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کرغزستان کو انتہائی مناسب اور رعایتی نرخوں پر ضروری اشیاء فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس کے ساتھ ہی، دونوں رہنماؤں نے وسطی ایشیا سے سستی پن بجلی پاکستان منتقل کرنے کے اہم منصوبے ‘کاسا-1000’ پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا اور اسے جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اقتصادی راہداری اور علاقائی رابطوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصاً کراچی، بن قاسم اور گوادر، زمین سے گھرے ہوئے کرغزستان کو عالمی اور علاقائی منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کر سکتی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے نوجوان نسل کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ، مشترکہ صنعتی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے چولپون آتا میں واقع ‘رخ اوردو ثقافتی مرکز’ کا دورہ کیا تا کہ دونوں ممالک کے مابین سیاحت اور ثقافتی ورثے کو فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ۲۰۲۷-۲۰۲۸ کی مدت کے لیے غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر کرغزستان کو مبارکباد پیش کی اور کرغزستان میں منعقد ہونے والے چھٹے ‘ورلڈ نوماڈ گیمز’ میں شرکت کی دعوت بھی قبول کر لی۔ یہ اعلیٰ سطحی ملاقات دسمبر ۲۰۲۵ میں کرغز صدر کے دورہ اسلام آباد کا تسلسل ہے جس میں دونوں ممالک نے ۱۵ اہم معاہدوں پر دستخط کیے تھے

