دمشق( ویب ڈیسک) صدر ایمانوئل میکرون کے شام کے تاریخی اور حساس سفارتی دورے کے دوران منگل کی صبح دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے میں دو یکے بعد دیگرے بم دھماکے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی صدر کے دفتر (ایلیزی پیلس) نے تصدیق کی ہے کہ ایمانوئل میکرون اور ان کا وفد ان دھماکوں میں مکمل طور پر محفوظ رہا ہے اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
شامی وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق یہ دھماکے فور سیزنز ہوٹل سے محض 125 میٹر کے فاصلے پر ہوئے جہاں فرانسیسی صدر نے رات گزاری تھی۔ پہلا دھماکہ اس وقت ہوا جب صدر میکرون کا قافلہ صدارتی محل کے لیے روانہ ہو چکا تھا، جس میں سڑک کنارے کھڑی ایک گاڑی میں چھپایا گیا دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) پھٹ گیا۔ اس کے فوراً بعد دوسرا دھماکہ قریبی کوڑے دان میں ہوا، جس نے وہاں جمع ہونے والے امدادی کارکنوں اور ایک ایمبولینس کو نشانہ بنایا۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایمانوئل میکرون شام کا دورہ کرنے والے پہلے یورپی ملک کے سربراہ ہیں۔ اس حملے کے باوجود فرانسیسی صدر کا طے شدہ شیڈول متاثر نہیں ہوا اور انہوں نے شام کے موجودہ صدر احمد الشرع سے صدارتی محل میں ملاقات کی تاکہ شام کی تعمیرِ نو اور سیکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ میکرون نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا کہ ایسے حملے شامی عوام کے خودمختار اور محفوظ شام کے خواب کو کمزور نہیں کر سکتے۔ یہ واقعہ نئی شامی حکومت کے لیے سیکیورٹی کے چیلنجز کو واضح کرتا ہے

