کراچی ( الفجرآن لائن) پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو جدید بنانے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو () اب ٹیکس نوٹسز کے اجرا کے لیے انسانی عمل دخل کو ختم کر کے مکمل طور پر اے آئی پر مبنی ماڈل استعمال کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس گزاروں کو ہراساں کیے جانے کے خدشات کو ختم کرنا اور ٹیکس کے نظام میں شفافیت لانا ہے۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ڈیٹا اور الگورتھم کی مدد سے ٹیکس چوری کرنے والوں کی نشاندہی خودکار طریقے سے کی جائے گی جس سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
ٹیکس اصلاحات کے ساتھ ساتھ ملکی معاشی محاذ سے بھی انتہائی مثبت اور حوصلہ افزا خبریں سامنے آئی ہیں۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی قوی امید ہے، جو کہ ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ان ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور حکومتی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہو چکا ہے اور جولائی سے مئی کے عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ 255 ملین ڈالر کے سرپلس (منافع) میں تبدیل ہو گیا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کا بحران مکمل طور پر ٹل گیا ہے۔
معاشی استحکام کی اس لہر کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر دی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ اب مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی جیسے پیداواری شعبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھانے کے بجائے ریٹیل اور زراعت جیسے غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے مقامی بینکوں سے قرض لینے کے عمل کو بھی محدود کر دیا ہے تاکہ بینکوں کے پاس موجود سرمایہ عام کاروباروں اور نجی شعبے کو فراہم کیا جا سکے، جس سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا۔

