گورنر بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور صوبائی وزیر تعلیم یونیورسٹی آف لورالائی کے چھ گھنٹے طویل سینیٹ اجلاس میں آخر تک موجود رہے جو اپنے صوبہ کے نوجوانوں کے روشن مستقبل اور ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے انکے غیرمتزلزل عزم کا بڑا ثبوت ہے۔ مذکورہ یونیورسٹی نے نہ صرف اپنے اکیڈمک ڈسپلن میں اپنا امتیاز برقرار رکھا ہے بلکہ اب الائیڈ سائنسز میں بھی بڑی دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن قومی سطح پر وسیع علم و تجربے کے ستون کے طور پر کھڑا ہے جو تمام یونیورسٹیوں میں معیاری تعلیم اور جدید ریسرچ کے فروغ کیلئے قابل قدر معاونت اور فکری رہنمائی فراہم کر رہا ہے
کوئٹہ( الفجرآن لائن) گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی یونیورسٹی آف لورالائی کے چھ گھنٹے طویل سینیٹ اجلاس میں آخر تک موجود رہے جو اپنے صوبہ کے نوجوانوں کے روشن مستقبل اور ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے ان کے غیرمتزلزل عزم کا بڑا ثبوت ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یونیورسٹی آف لورالائی کے آٹھویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے قیام کے مختصر عرصے میں لورالائی یونیورسٹی کوالٹی ایجوکیشن اور جدید مہارتیں سکھانے کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے۔
مذکورہ یونیورسٹی نے نہ صرف اپنے اکیڈمک ڈسپلن میں اپنا امتیاز برقرار رکھا ہے بلکہ اب الائیڈ سائنسز میں بھی بڑی دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ طلباء وطالبات جدید سائنسی شعبوں اور جدید مہارتوں دونوں میں معیاری تعلیم حاصل کریں تاکہ مذکورہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس اپنی عملی زندگی میں معاشی طور پر خودمختار اور مسابقتی بننے کے قابل رہیں۔ یونیورسٹی آف لورالائی کے آٹھویں سینیٹ اجلاس میں وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نمائندہ نور امنہ ملک، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، پرو وائس چانسلر عادل زمان کاسی اور رجسٹرار ڈاکٹر خالد خان سمیت تمام سینیٹ ممبران موجود تھے۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن قومی سطح پر وسیع علم و تجربے کے ستون کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے جو ہماری یونیورسٹیوں میں معیاری تعلیم اور جدید ریسرچ کے فروغ کیلئے قابل قدر معاونت اور فکری رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ سردست یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے مالی استحکام کو مضبوط کریں۔ اس کیلئے دوجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے پہلا آمدنی کے نئے اور پائیدار ذرائع پیدا کریں اور دوسرا اپنے تمام غیرضروری اخراجات کو پر ممکن حد کم کریں۔
گورنر مندوخیل نے ہدایت دی کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقررہ وقت پر اپنے سینیٹ کے ہر اجلاس کیلئے مکمل ایجنڈا اور تمام متعلقہ دستاویزات سینیٹ ممبران کو کم از کم ایک ہفتہ قبل بھیج دی جائیں جس کے نتیجے میں مناسب غور و خوض اور بہتر فیصلہ سازی ممکن ہو سکے گی۔ گورنر مندوخیل نے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان کاکڑ اور ان کی پوری ٹیم کو یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول کو پروان چڑھانے اور اس کے معیار کو بلند کرنے میں ان کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب آپ اپنی بھرپور توجہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نئے تعلیمی پروگرامز کو متعارف کرانے پر مرکوز کریں تاکہ لورالائی یونیورسٹی بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے جدید تعلیم اور روزگار کے نئے مواقعوں کے موثر و معتبر وسیلہ کے طور پر کام کرتی رہے۔ یونیورسٹی آف لورالائی کے آٹھویں سینیٹ اجلاس کے تمام شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔

