انقرہ (ویب ڈیسک) جولائی 2026 میں انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے عالمی رہنماؤں کو ایک ایسا غیر معمولی سفارتی تحفہ پیش کیا جس نے بین الاقوامی سطح پر قانونی اور لاجسٹک بحران کھڑا کر دیا ہے۔ ترک صدر کی جانب سے تمام سربراہانِ مملکت کو ایک ایک چلنے والا ونٹیج ریوالور (پستول) اور اس کے ساتھ زندہ کارتوس (گولیاں) تحفے میں دیے گئے۔ اس انوکھے تحفے نے سخت ملکی قوانین کے باعث کینیڈا، برطانیہ اور بیلجیم سمیت کئی ممالک کے وفود کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔
عالمی رہنماؤں کو دیا جانے والا یہ ہتھیار ‘گوموشے .357 میگنم’ ریوالور ہے، جسے 1990 کی دہائی میں ترکیہ کے سرکاری اسلحہ ساز ادارے نے تیار کیا تھا اور اسے ترکیہ کا پہلا مقامی ریوالور مانا جاتا ہے۔ ہر ہتھیار کو ایک خوبصورت لکڑی کے ڈبے میں پیک کیا گیا تھا جس پر ترک پرچم اور نیٹو کا لوگو نقش تھا۔ مزید برآں، ہر پستول کی نالی پر متعلقہ عالمی رہنما کا نام بھی کندہ کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس تحفے کا مقصد ترکیہ کی دفاعی صنعت اور چھوٹے ہتھیاروں کی برآمدات کی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا، کیونکہ ترکیہ اس وقت دنیا میں چھوٹے ہتھیار برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔
زندہ گولیوں اور چالو ہتھیار کی موجودگی نے کئی ممالک کے سیکیورٹی حکام کے ہوش اڑا دیے، کیونکہ بیشتر نیٹو ممالک میں آتشیں اسلحہ درآمد کرنے پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ برطانوی وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر نے قانون کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے اپنا ریوالور ترکیہ میں ہی چھوڑ دیا تاکہ اسے وہاں ناکارہ بنایا جا سکے۔ بیلجیم کے وزیرِ اعظم نے وطن واپسی پر اپنا پستول ایئرپورٹ پولیس کے حوالے کر دیا، جبکہ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اپنا تحفہ فوجی میوزیم کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے کینیڈا کے نئے وزیرِ اعظم مارک کارنی کا ردِعمل سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مسکراتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی طرف سے دیا گیا روایتی تحفہ (میپل سیرپ/شیرہ) اس سرفروش ترک .357 میگنم کے سامنے بہت ہلکا محسوس ہو رہا ہے۔ مارک کارنی نے کینیڈین عوام کو مزاحیہ انداز میں یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا، "میں کینیڈا کے شہریوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ سیکیورٹی والے گنز کو مجھ سے دور ہی رکھتے ہیں، ویسے بھی میرے پاس اس کا لائسنس نہیں ہے۔” کینیڈین حکام نے واضح کیا ہے کہ گولیوں کو انقرہ میں ہی تلف کر دیا گیا تھا، جبکہ ریوالور کو رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے جسے جلد ہی کینیڈین وار میوزیم میں منتقل کر دیا جائے گا

