کراچی( الفجرآن لائن) اسلامی دنیا کے مایہ ناز عالم دین اور دارالعلوم کراچی کے صدر مفتی محمد تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ایک تفصیلی شرعی فتویٰ جاری کیا ہے۔ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء سے جاری ہونے والے اس اہم فتوے میں واضح کیا گیا ہے کہ بٹ کوائن سمیت تمام اقسام کی ڈیجیٹل کرنسیوں، ٹوکنز اور اسٹیبل کوائنز کی خرید و فروخت شرعی طور پر مکمل طور پر ممنوع اور حرام ہے۔
شرعی فتوے میں اس ممانعت کی بنیادی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کو شریعت کی رو سے "مال” (اثاثہ) تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کی پشت پناہی کے لیے کوئی ٹھوس مادی وجود یا اثاثہ موجود نہیں ہے۔ مزید برآں، مفتی تقی عثمانی نے اپنی تحقیق میں واضح کیا کہ کرپٹو مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ انتہائی غیر یقینی ہے، جس کی وجہ سے یہ کاروبار محض قیاس آرائی اور جوئے (میسر) کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو کہ اسلام میں سختی سے ممنوع ہے۔
فتاویٰ میں اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ان ڈیجیٹل اثاثوں کو کسی بھی ریاست کے مرکزی بینک یا قانونی حکومتی ادارے کی سرپرستی حاصل نہیں ہے۔ مفتی صاحب کے مطابق، ایسی غیر منظم اور خفیہ کرنسیوں کا استعمال منی لانڈرنگ، غیر قانونی تجارت اور کمزور معیشتوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حلال کمائی کو اس قسم کے پرخطر اور غیر شرعی کاروبار میں لگانے سے مکمل پرہیز کریں

