مشہد (ویب ڈیسک) ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع مقدس روضہ امام رضا علیہ السلام میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ تدفین کی یہ تقریب ایک طویل اور کثیر الروزہ ریاستی جنازے کے جلوسوں کا آخری مرحلہ تھی، جس میں ایران اور عراق کے مختلف شہروں سے لاکھوں سوگواروں اور زائرین نے شرکت کر کے اپنے مرحوم قائد کو الوداع کہا۔
آیت اللہ خامنہ ای کے آخری سفر کی نمازِ جنازہ ان کے بڑے بیٹے سید مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی۔ اس موقع پر مرحوم سپریم لیڈر کے ساتھ ان کے خاندان کے دیگر ارکان کو بھی دفن کیا گیا، جن میں ان کی بیٹی، داماد، بہو اور 14 ماہ کی پوتی شامل ہیں، جو اسی فوجی کارروائی میں جاں بحق ہوئے تھے۔ سکیورٹی خدشات اور مبینہ زخمی حالت کے باعث نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس عوامی تقریب میں شرکت نہ کر سکے۔
واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای رواں سال 28 فروری کو تہران میں سپریم لیڈر کے دفتر پر ہونے والے مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ خطے میں جاری جنگی کشیدگی کی وجہ سے ان کی تدفین کا عمل چار ماہ سے زائد عرصے تک تاخیر کا شکار رہا، جسے اب ایرانی حکومت نے اپنی عوامی طاقت، یکجہتی اور مزاحمت کے مظاہرے کے طور پر سرانجام دیا ہے۔

