کوئٹہ (الفجرآن لائن) حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ محکمۂ مال (ریونیو ڈیپارٹمنٹ) نے صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد ضلع کوئٹہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے، نئے اضلاع اور نئے ڈویژنز قائم کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ان نئی تبدیلیوں کے بعد صوبے میں انتظامی امور کو چلانے کے لیے اضلاع کی کل تعداد بڑھ کر 42 جبکہ ڈویژنز کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو جغرافیائی اور انتظامی بنیادوں پر دو الگ اضلاع، ‘ضلع کوئٹہ ایسٹ’ (مشرقی) اور ‘ضلع کوئٹہ ویسٹ’ (مغربی) میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ضلع کوئٹہ ایسٹ کے دائرہ اختیار میں سریاب، صدر اور سٹی کی سب ڈویژنز شامل ہوں گی، جبکہ ضلع کوئٹہ ویسٹ کچلاک، بروری اور پنجپائی کی سب ڈویژنز پر مشتمل ہوگا۔ اس نئی تقسیم کے ساتھ ہی اب کوئٹہ ڈویژن میں تین اضلاع شامل ہوں گے، جن میں کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ کے علاوہ ضلع مستونگ بھی شامل ہے، جسے قلات ڈویژن سے الگ کر کے کوئٹہ ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔دوسری جانب حکومت نے ایک اور اہم فیصلے کے تحت قدیم قلات ڈویژن کو ختم کر دیا ہے اور اس کی جگہ ‘خضدار ڈویژن’ اور ‘لسبیلہ ڈویژن’ کے نام سے دو نئے ڈویژنز قائم کیے ہیں۔ اسی طرح ضلع خضدار کو تقسیم کر کے ایک نیا ضلع ‘وڈھ’ تشکیل دیا گیا ہے۔ نئے ضلع وڈھ میں وڈھ، نال، سب تحصیل اورناچ، سب تحصیل آڑنجی اور سب تحصیل گریشہ کے علاقے شامل کیے گئے ہیں، اور یہ نیا ضلع اب خضدار ڈویژن کا حصہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ضلع ‘شہید سکندر آباد’ کا نام تبدیل کر کے دوبارہ ‘ضلع سوراب’ رکھ دیا گیا ہے، جبکہ زیارت اور ہرنائی کے اضلاع کو لورالائی ڈویژن میں شامل کر دیا گیا ہے

