امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف 1,000 میزائل فوری کارروائی کے لیے بالکل تیار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے امریکی فوج کو پہلے ہی پیشگی احکامات جاری کر دیے ہیں اور امریکی فورسز ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج "تیار، پُرعزم اور ہر لحاظ سے اہل” ہے کہ وہ ایران کے تمام علاقوں کو ایک سال کے اندر مکمل طور پر نیست و نابود کر دے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فوجی کارروائی کی منظوری ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے دی گئی ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔ امریکی صدر کا یہ جارحانہ بیان ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران مبینہ طور پر ٹرمپ کی موت کے مطالبات اور نعروں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔
یہ حالیہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ اب باقاعدہ ختم ہو چکا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت پر ہونے والی حالیہ فوجی جھڑپوں اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے امریکہ پر مفاہمت کی یادداشت (MoU) کی خلاف ورزی کے الزامات نے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں۔
کیا آپ اس خبر میں مزید معلومات شامل کرنا چاہتے ہیں؟

