امریکی صدر نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے ریپبلکنز کی انتخابی ناکامی میں کردار ادا کیا، تاہم جوہری خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے فوجی کارروائی کو ناگزیر قرار دے دیا۔
واشنگٹن (الفجرآن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے باوجود ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے امریکا کے پاس فوجی اقدام کے سوا کوئی مؤثر راستہ موجود نہیں تھا۔ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے انتخابی نتائج پر منفی اثرات مرتب کیے، جس کے باعث ریپبلکن امیدواروں کو عوامی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر سیاسی نقصانات کو ترجیح نہیں دی جا سکتی اور ایران کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے خطرے کا مقابلہ کرنا ضروری تھا۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی تسلیم کیا کہ ایران جنگ کے باعث عوام میں پائی جانے والی ناراضی نے ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی پوزیشن کو کمزور کیا۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی اب صرف خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ اس کے سیاسی اور معاشی اثرات بھی امریکی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد جنگی حکمت عملی، بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں اور عوامی ردعمل کے حوالے سے امریکی انتظامیہ پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

