روس کے ساتھ آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ، ملک بھر میں 7 نئے اے آئی سینٹرز قائم کیے جائیں گے
اسلام آباد (الفجر آن لائن): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے 2030 تک مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں 10 لاکھ ماہرین تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے اور عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں پاکستان کا کردار بڑھانے کے لیے روس کے ساتھ تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں منعقدہ ’’پاکستان روس آئی ٹی تعاون: انڈسٹری انگیجمنٹ فریم ورک‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی پارٹنرشپس، مارکیٹ تک رسائی اور آزمائشی منصوبوں کے ذریعے دوطرفہ تجارتی تعاون کو عملی مواقع میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) نے پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے تعاون سے حالیہ کاروباری ملاقاتوں کا اہتمام کیا، جن میں روس کی پانچ کمپنیوں نے پاکستان کی 11 کمپنیوں کے ساتھ مجموعی طور پر 16 ملاقاتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ان رابطوں کو باقاعدہ کاروباری معاہدوں اور تجارتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ای پاکستان، حکومت کے قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے کے پانچ بنیادی ستونوں میں شامل ہے، جبکہ پاکستان کو 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون کے تحت صنعتی شعبے میں آٹومیشن اور انٹرپرائز سافٹ ویئر، زراعت کے لیے ڈیجیٹل سپلائی چین، تجارت کے لیے محفوظ ڈیجیٹل نظام، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کو صرف آئی ٹی سروسز برآمد کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عالمی منڈیوں کے لیے اپنی ٹیکنالوجی مصنوعات، سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی تیار کرنے چاہئیں۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کے انسانی وسائل کو ملک کا اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر سال 75 ہزار سے زائد گریجویٹس تیار کرتا ہے، جبکہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت 2030 تک 10 لاکھ اے آئی پروفیشنلز تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں سات نئے مصنوعی ذہانت کے مراکز قائم کیے جائیں گے، جو تحقیق، جدید مہارتوں کی تربیت، اسٹارٹ اپس اور صنعتی شعبے کو ایک دوسرے سے منسلک کرکے پاکستان کے اے آئی ایکو سسٹم کو مضبوط بنائیں گے۔
احسن اقبال نے پاکستان کے ڈیجیٹل گورننس کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ڈیجیٹل شناختی نظام کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان کے فوری ادائیگی کے نظام راست (RAAST) کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس نظام کے ذریعے ایک سہ ماہی کے دوران 64 کروڑ 60 لاکھ ٹرانزیکشنز مکمل کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ڈیجیٹل خدمات اور بڑے پیمانے پر عوامی نظام چلانے میں اہم تجربہ حاصل کیا ہے، جسے روس کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون کے ذریعے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ روس کو سائنس، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں طویل تجربہ حاصل ہے، بالخصوص انٹرپرائز سافٹ ویئر، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی میں روس کی مہارت پاکستان کی انجینئرنگ صلاحیتوں اور آئی ٹی تجربے کے ساتھ مل کر نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایسے ٹیکنالوجی حل تیار اور متعارف کرا سکتے ہیں جنہیں اپنی اپنی منڈیوں کے علاوہ تیسرے ممالک میں بھی پیش کیا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس کو دوطرفہ تعاون کے لیے خاص طور پر اہم شعبے قرار دیتے ہوئے انہوں نے عملی اور تجارتی طور پر قابلِ عمل منصوبوں پر زور دیا۔
احسن اقبال نے پاکستان اور روس کے درمیان تعاون میں زبان کی رکاوٹ کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی محققین اور طلبہ میں روسی زبان سے واقفیت محدود ہونے کے باعث بعض تعلیمی اور تحقیقی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
ان کے مطابق حکومت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں قائم مرکز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے پاکستانی سائنسی و تحقیقی برادری میں روسی زبان کی تعلیم کو فروغ دے رہی ہے۔ مختلف زبانوں کے تعلیمی پروگراموں میں بھی روسی زبان کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ جامعات، محققین اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط بہتر بنائے جا سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کا انحصار محض اعلانات پر نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے حقیقی مواقع پیدا کرنے پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ منصوبے کمپنیوں کی قیادت میں، تجارتی بنیادوں پر اور دونوں ممالک کے قوانین و بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق شفاف انداز میں آگے بڑھنے چاہئیں۔
انہوں نے ادائیگیوں اور مالی لین دین کے نظام کو دوطرفہ تعاون میں ایک عملی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ادارے ان مسائل کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔
احسن اقبال نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اجلاس کے اختتام پر مخصوص کاروباری مواقع، متعلقہ شراکت داروں اور آئندہ اقدامات کا واضح لائحہ عمل طے کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز (UWCM) مزید تعاون کے لیے سہولت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات کے مستقبل میں ٹیکنالوجی کو زیادہ اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی نے کئی برسوں تک دونوں ممالک کی شراکت داری کو تقویت دی، اب ٹیکنالوجی کو مشترکہ مستقبل کی بنیاد بنانا ہوگا۔

