کوئٹہ( الفجرآن لائن)بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس, حکومت بلوچستان اور سسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ ارگنائزیشن (SSDO) اور برطا نوی ہائی کمیشن کے اشتراک سے (بلوچستان میں انسداد دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد پر ادارہ جاتی اور پارلیمانی استعداد کو مضبوط بنانے کے) کے عنوان سے سرینا ہوٹل کوئٹہ میں ایک اہم راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد ہوئی.کانفرنس میں سرکاری اداروں کے نمائندگان، ماہرین تعلیم, خواتین, محققین, مذہبی نمائندے, میڈیا اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔
کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کے فروغ, بہتر حکمت عملی اور معاشرے میں لوگوں کے درمیان ہم اہنگی پیدا کرنی تھی.
ممبر بلوچستان اسمبلی انجینیئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے عوام کا تعاون ناگزیر ہے اور ہمیں عوام کے ساتھ رابطے استوار کرنے ہوں گے اور عوام کے تحفظات کو سن کے لانگ ٹرم پالیسی بنانی ہوگی.
مشیر وزیراعلی بلوچستان مینا مجید بلوچ نے کہا کہ یہ دہشت گرد بلوچ نسل کشی میں ملوث ہیں کیونکہ یہ 15 سال کے بچوں کی ذہن سازی کر کے دہشت گرد کاروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں ہم سب کو دہشت گردوں کے خلاف بلا خوف و خطر بولنا ہوگا.
تقریب سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری, محکمہ داخلہ محمد حمزہ شفقات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات لیے جا رہے ہیں جس میں ایک اہم اقدام سینٹر اف ایکسیلنس کا قیام اور لیویز کو پولیس میں ضم کرنا ہے انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ صرف اور صرف بلوچستان کے عوام کے دشمن ہیں.
ایگزیکیو ڈائریکٹر, ایس ایس ڈی او سید کوثر عباس نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ہمیں ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ لانے کی ضرورت ہے اور باہمی تعاون ہی سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے.
چیف کو ارڈرینیشن افیسر ڈاکٹر دوست محمد نے کہا کہ ہم تحقیق کے ذریعے اور نوجوانوں کو انگیج کرنے کے لیے سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کر رہے ہیں اور مستقبل میں اس حوالے سے بلوچستان یوتھ انویشن اینڈ انکوبیشن کمپٹیشن کا انعقاد بھی ہوگا.
ڈپٹی کوارڈینیشن افیسر عصمت اللہ خان نے کہا کہ مثبت لٹریچر کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کرنی ہوگی اور پرتشدد سوچ کے خاتمے کے لیے فیملی لیول پر اگاہی دینی ہوگی.
کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری ڈی ائی جی ڈاکٹر فرحان زاہد نے کہا کہ کہ بچوں کو غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے لیے والدین کو اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی.
ڈپٹی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری ایس ایس پی شہلا قریشی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے خواتین کا کردار اہم ہے اور اس حوالے سے خواتین کو انگیج کیا جا رہا ہے.
معاون خصوصی برائے وزیر داخلہ بابر خان یوسفزی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد اپنے بیرونی اقاؤں کو خوش کرنے کے لیے دہشت گرد کاروائیاں کر رہے ہیں اور لوگوں کو بلیک میل کر کے ان کا استحصال کرتے ہیں.
سیکرٹری کالجز ڈیپارٹمنٹ صالح محمد بلوچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی اداروں میں سہولیات مہیا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اصلاحات اور سکالرشپس کے ذریعے نوجوانوں کو انگیج کر رہی ہے جس سے نوجوانوں میں مثبت تبدیلی ائے گی.
تقریب کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا یہ دہشت گردی کےناسور کو مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے
