کراچی (الفجر آن لائن) نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس کے نئے تفتیشی افسر سراج لاشاری عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالت نے کیس کی تفتیش میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا۔مدعی مقدمہ میر حسین بھی اپنے وکیل جبران ناصر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو بتایا کہ محمد احمد کا بیان بطور گواہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مقتول میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد نے عدالت کو بتایا کہ مجھے جب بھی پولیس نے بلایا میں پیش ہوا ہوں، مجھے 6، 6 گھنٹے تک بٹھا کر رکھا جاتا ہے، 13 اگست کو پولیس نے بلایا تھا میں گیا تھا۔عدالت نے محمد احمد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس جب آپ کو بلائے آپ نے جانا ہے، اس دوران آپ نے نہ گھر تبدیل کرنا ہے نہ پولیس کو بتائے بغیر شہر سے باہر جانا ہے، آپ عبوری ضمانت پر ہیں۔وکیل مدعی مقدمہ نے کہا کہ محمد احمد کا بیان بطور گواہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اگر درخواست ضمانت مسترد یا منظور ہو تو یہ گواہ سے ملزم بن جائیں گے۔
عدالت نے تفتیش میں سست روی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ والد، خاندان اور شہر والے پریشان ہیں ایک بندے کا قتل ہوا ہے تحقیقات کریں جو حقائق ہیں سامنے لائیں۔تفتیشی افسر سراج لاشاری نے کہا کہ مجھے 13 اگست کو تفتیش ملی ہے، کیس میں 35 افراد سے تحقیقات جاری ہیں جو جو میر رضا سے رابطے میں تھے سب سے پوچھ گچھ جاری ہے، کال ریکارڈ کے مطابق جس دن وقوعہ ہوا اس دن میر رضا کے ساتھ رابطے میں رہنے والوں کو خاص طور بلایا ہے۔سراج لاشاری نے کہاکہ محمد احمد اور میر رضا کی بات ہوئی تھی، ابھی تک کوئی ملزم ملا ہے نہ ہی ہم نے کسی کو ملزم بنایا ہے۔عدالت نے محمد احمد کی عبوری ضمانت میں 24 اگست تک توسیع کرتے ہوئے انہیں تحقیقات میں تعاون کی ہدایت کردی۔
کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو کہا کہ انویسٹی گیشن مکمل نہیں ہوئی مہلت دی جائے، عدالت نے انویسٹی گیشن مکمل کرنے کے لیے 24 اگست تک مہلت دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات مکمل کرکے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کی جائے۔میر رضا قتل کیس کی تفتیش میں پیشرفت سامنے آئی ہے اور تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں مزید 2 اراکین شامل کیے گئے ہیں جس کے بعد تعداد 9 ہوگئی ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق کمیٹی میں ایس ایچ او شاہ لطیف تھانا اور ایک ڈی ایس پی شامل کیا گیا ہے۔کمیٹی نے میر رضا کا موبائل فون اور سمارٹ واچ این سی سی آئی اے سے واپس لے لی، موبائل فون اور سمارٹ واچ کو فارنزک کے لیے لاہور فارنزک لیب بھیجا جائے گا، میر رضا کے اہلخانہ نے این سی سی آئی اے سے فارنزک کروانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جائے وقوعہ سے مزید شواہد ملے ہیں۔

