کوئٹہ (الفجرآن لائن) بلوچستان صوبائی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین محمد خان لہڑی، غلام دستگیر بادینی، عبیداللہ گورگیج، فضل قادر مندوخیل، صفیہ بی بی اور زابد علی ریکی نے شرکت کی۔
اجلاس میں بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے اسپیشل آڈٹ اور اس پر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی سراج لہڑی اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال چیئرمین بلوچستان بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان ڈائریکٹر اسکولز اختر کھیتران بھی موجود تھے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے آڈٹ اعتراضات اور محکمانہ کارکردگی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی بحث کی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ نصاب کے شعبے میں 180 سے زائد ملازمین کی موجودگی اور ان کو دی جانے والی بھاری تنخواہوں کے باوجود پرائیویٹ اداروں سے سلیبس کے کتب کے لیے خدمات حاصل کرنا اور ان کو سالانہ کروڑوں کی رقم میں حصہ دینا عجیب بات ہے۔ جو کہ 2006 سے ان کو دیئے جا رہے ہیں۔
رکن کمیٹی غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ اگر کسی ایک سال کا ریکارڈ دستیاب نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام متعلقہ افراد کو سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے انہیں بدستور تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔ چئیرمین نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں نصاب سازی کے شعبے میں باصلاحیت اور قابل افراد کو تعینات کیا جاتا ہے، کمیٹی اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جون اور جولائی کے مہینے تک بھی اسکولوں میں درسی کتب دستیاب نہیں ہیں۔ چئیرمین نے دعویٰ کیا کہ شواہد کے ساتھ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ان کتابوں کی معیار بھی تسلی بخش نہیں ہیں۔
چئیرمین نے کہا کہ گزشتہ ہفتے انہوں نے چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ کی توجہ اس جانب دلائی تھی کہ انکے حلقے میں اب تک بیشتر حلقوں میں طلبہ کو درسی کتب دستیاب نہیں ہیں، جبکہ اب مڈ ٹرم امتحانات کا وقت بھی قریب آ چکا ہے۔
زابد علی ریکی نے مزید کہا کہ بعض ٹھیکیدار کتب کی ترسیل کے دوران غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں وہ پورے ڈسٹرکٹ کے بجائے کتب ایک جگہ پر رکھ کر چلے جاتے ہیں ۔
کمیٹی نے بروقت درسی کتب کے اسکولوں میں ترسیل نہ کرنے والے آفیسران کے خلاف انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
اس موقع پر سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں سال اسکولوں میں طلبہ کے اندراج میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کتب کی طلب میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ضلعی تعلیمی افسران) فنڈز میں اضافہ کرنے کے بجائے کمی کی گئی ہے، اور سوال اٹھایا کہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ ضلعی افسران اپنے اضلاع میں تمام اسکولوں کی نہیں کر سکتے۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سیکرٹری تعلیم کو ہدایت کی کہ آڈٹ کو ریکارڈ مہیا نہ کرنے کی معاملے کی مکمل انکوائری کر کے رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے تاکہ اسے مزید کارروائی کے لیے چیف سیکرٹری بلوچستان کے سامنے اٹھایا جا سکے۔
اجلاس کے دوران ایک آڈٹ پیرا پر بحث کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیپوٹیشن الاؤنس کی ادائیگی روک دی گئی ہے، تاہم اس مد میں واجب الادا رقوم کی ریکوری تاحال عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ کمیٹی نے اس معاملے پر محکمہ تعلیم سے مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے محکمہ تعلیم کی اس کاوش کو سراہا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے درسی کتب کے معیار اور مواد میں یکسانیت لانے کے اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ طلبہ تک بروقت اور معیاری درسی کتب کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

