کوئٹہ ( الفجرآن لائن) بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع زیارت کے مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی ہے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر حکومت بلوچستان نے ایس پی زیارت کو معطل کر دیا ہے، جبکہ واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور جامع تحقیقات کے لیے چیئرمین سی ایم آئی ٹی محمد علی کاکڑ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اس حوالے سے محکمہ داخلہ بلوچستان نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی میں چیئرمین سی ایم آئی ٹی کے علاوہ سیکریٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی)، انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کی جانب سے نامزد کردہ ایک سینئر ڈی آئی جی پولیس اور جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے نامزد کردہ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو بطور ارکان شامل ہوں گے۔ کمیٹی دہشت گرد حملے سے قبل، دورانِ حملہ اور بعد کے تمام واقعات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور واقعے سے متعلق تمام حقائق اور حالات کا تعین کرے گی۔ کمیٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی تیاری، تعیناتی، ردعمل، کمانڈ اینڈ کنٹرول، باہمی رابطہ کاری اور مجموعی سیکیورٹی انتظامات کا بھی مکمل جائزہ لے گی نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی یہ بھی تعین کرے گی کہ آیا کسی افسر یا ادارے کی جانب سے غفلت، فرائض میں کوتاہی، آپریشنل خامی، کمانڈ اینڈ کنٹرول میں کمزوری یا رابطہ کاری میں ناکامی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اگر کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو قابل اطلاق قوانین اور قواعد کے مطابق ان کے خلاف تادیبی، انتظامی، فوجداری یا دیگر قانونی کارروائی کی سفارش کی جائے گی کمیٹی کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ مانگی ڈیم سمیت صوبے بھر کی اہم عوامی تنصیبات اور حساس انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے فوری، درمیانی مدت اور طویل المدتی سیکیورٹی اقدامات تجویز کرے۔
اس کے علاوہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پالیسی، ادارہ جاتی اور آپریشنل اصلاحات پر بھی سفارشات مرتب کرے گی محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے تحت انکوائری کمیٹی کو مکمل اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کسی بھی ادارے سے ریکارڈ طلب کر سکے گی، متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو طلب کرے گی، گواہوں کے بیانات قلمبند کرے گی، جائے وقوعہ کا معائنہ کرے گی، ماہرین کی رائے حاصل کرے گی اور ضرورت پڑنے پر تکنیکی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کر سکے گی تاکہ تحقیقات کو ہر لحاظ سے مؤثر اور جامع بنایا جا سکے نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی پندرہ روز کے اندر اپنی رپورٹ حکومت بلوچستان کو پیش کرے گی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر واضح کیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں غفلت، نااہلی یا ذمہ داری سے انحراف کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر بلاامتیاز عمل درآمد جاری رہے گا اور جو بھی افسر یا اہلکار اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس افسوسناک واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے اور انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے مؤثر اصلاحاتی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

