ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ڈی ایم ایس اور اے ایم ایس ایمرجنسی کے ساتھ سکیورٹی سپر وائزر اور نائٹ ڈیوٹی سپروائزر کو بھی معطل کردیا
معاملے کی تحقیقات کے لئے 3 ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی
راولپنڈی(الفجرآن لائن)راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی)میں خاتون مریضہ کے ساتھ آئی خاتون سٹاف نرس پر مبینہ تشدد کے واقعہ پر آر آئی سی کی نرسوں نے احتجاجا کام چھوڑ دیا اور احتجاج کرتی ہوئی ہسپتال کے سبزہ زار میں جمع ہوگئیں ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ہسپتال کے ڈی ایم ایس اور اے ایم ایس ایمرجنسی کے ساتھ سکیورٹی سپر وائزر اور نائٹ ڈیوٹی سپروائزر کو بھی معطل کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لئے 3 ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ تھانہ وارث خان پولیس نے متاثرہ نرس کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا
ہسپتال کی چارج نرس ستارہ سلیم نے کی مدعیت میں درج مقدمہ کے متن کے مطابق خاتون مریضہ زمین بی بی کی بیٹیوں کو ایمرجنسی سے باہر جانے کا کہا جس پر انہوں نے بدتمیزی کرتے ہوئے گالم گلوچ شروع کر دی اور زبردستی کھینچ پر مردانہ وارڈ میں لے گئی مریضہ کے ساتھ دو مردوں نے بھی تشدد کیا اور کپڑے پھاڑ ڈالے جبکہ ملزمان جان سے مارنے اور نوکری سے نکلوانے کی دھمکیاں دیتے رہے جس پر پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 354، 506، 186 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ نے واقعہ کی انکوائری کیلئے پروفیسر مصباح درانی، ڈاکٹر عبدالمالک شیخ اور ڈاکٹر عبدالسلام آزاد پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی انکوائری کمیٹی سات دن کے اندر اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو پیش کرے گی کمیٹی سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کرے گی اور سٹاف کے بیانات قلمبند کرے گی انکوائری مکمل ہونے تک ڈی ایم ایس اور اے ایم ایس ایمرجنسی، سکیورٹی سپروائزر اور نائٹ ڈیوٹی سپروائزر معطل رہیں گے قبل ازیں خاتون مریضہ کے لواحقین پر تشدد کا الزام لگاتے ہوئے نرسوں نے ہسپتال میں احتجاج کی کال دے دی نرسوں کی جانب سے ہسپتال میں احتجاج پر مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا تاہم ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات اور انکوائری کر کے کاروائی کی یقین دہانی پر نرسوں نے احتجاج ختم کر دیا

