کوئٹہ(الفجرآن لائن) بلوچستان میں کپاس کی پیداوار بڑھانے، کاشت کے رقبے میں وسعت اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے کے اندر "Cotton Maximization” (کاٹن میکسی مائزیشن) کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت داؤد خلجی نے کپاس کی موجودہ صورتحال، پیداواری امکانات، کاشتکاروں کو درپیش مسائل، جدید بیج، آبپاشی، زرعی مشینری، اور مارکیٹنگ کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ کپاس صوبے کی ایک اہم نقد آور فصل ہے، جس کی پیداوار میں اضافہ نہ صرف کسانوں کی آمدن بڑھا سکتا ہے بلکہ صوبائی معیشت کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی، معیاری بیج، پانی کے مؤثر استعمال، بروقت کاشت اور زرعی رہنمائی کے ذریعے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں بہتری لائی جائے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بلوچستان میں پہلے ہی کپاس کے رقبے میں توسیع کا رجحان دیکھا گیا ہے، اور اس نئی حکمتِ عملی کے تحت ان اضلاع میں بھی کپاس کی کاشت کو فروغ دیا جائے گا جہاں زرعی امکانات موجود ہیں تاکہ بنجر یا کم استعمال شدہ اراضی کو قابلِ کاشت بنایا جا سکے گا۔
چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ صرف ایک فصل کی ترقی نہیں بلکہ یہ صوبے میں ٹیکسٹائل، جننگ، ٹرانسپورٹ، روزگار اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی تقویت دے گا، جس سے ملکی درآمدی بل میں کمی اور برآمدی امکانات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کپاس کے کاشتکاروں کے لیے تربیتی پروگرام، آگاہی مہم، فیلڈ سپورٹ، اور مربوط حکمتِ عملی پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں۔ حکومتِ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ زرعی ترقی، کسانوں کی خوشحالی اور صوبائی معیشت کی مضبوطی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے

