واشنگٹن( الفجرآن لائن)امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی اور ایل این جی ٹینکرز پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ایران کو دی جانے والی عارضی رعایت فوری طور پر ختم کرتے ہوئے تیل کی فروخت پر دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ اور ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی اعلامیے کے مطابق، گزشتہ ماہ 22 جون کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے ایک عارضی معاہدے کے تحت ایران کو دی جانے والی 60 دنوں کی مہلت کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اب تمام عالمی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تیل کی تجارت بند کرنے کے لیے صرف 17 جولائی تک کی نئی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رعایت اس شرط پر دی گئی تھی کہ ایران خطے میں امن امان قائم رکھے گا اور بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں میں جہاز رانی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ تاہم، حالیہ دنوں میں قطر کے ایل این جی ٹینکر ‘الرقیات’ اور سعودی عرب کے خام تیل لے جانے والے سپر ٹینکر ‘ودیان’ پر ہونے والے ڈرون حملوں نے اس امن معاہدے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے۔ ان حملوں کے بعد امریکی افواج نے جنوبی ایران میں واقع فوجی اور بندرگاہی اہداف پر جوابی فضائی کارروائیاں بھی کی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی سنگین حد تک بڑھ گئی ہے۔
اس اچانک فیصلے اور فوجی تصادم کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور برینٹ کروڈ سمیت خام تیل کی قیمتوں میں یکدم 5 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب قطر نے بھی اپنے بحری جہاز پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور قطری بینکوں میں موجود ایرانی فنڈز کو دوبارہ منجمد کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ان پابندیوں کی واپسی سے ایران کی معیشت پر ایک بار پھر شدید دباؤ آئے گا، جس کی روزانہ تیل کی برآمدات حال ہی میں 35 لاکھ بیرل تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی۔

