واشنگٹن / تہران( ویب ڈیسک) امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں ایران کے متعدد فوجی ٹھکانوں پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی سمندری حدود میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے پر تہران کو "بھاری قیمت” چکانے کے لیے کی گئی ہے۔ ان حملوں کے بعد گزشتہ ماہ جون میں طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ اور امن مذاکرات شدید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
ایران کی جانب سے قطر کے ایل این جی ٹینکر ‘الرقیات’ اور سعودی عرب کے خام تیل لے جانے والے جہاز ‘ودیان’ سمیت تین مرچنٹ جہازوں کو اینٹی شپ کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ جہاز عمان کے ساحل کے قریب اس نئے جنوبی تجارتی راستے کا استعمال کر رہے تھے جسے امریکہ اور عمان کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف ایران اس روٹ کی شدید مخالفت کرتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا خصوصی اختیار ہے، جس کے تحت تمام تجارتی جہازوں کو تہران کے پاس رجسٹریشن کروانی ہوگی اور ٹرانزٹ فیس ادا کرنی ہوگی۔
امریکی فضائیہ نے ایران کے جنوبی علاقوں بالخصوص سیرک میں طاہروئی پیئر، جزیرہ قشم اور بندر عباس کی بندرگاہ کے قریبی علاقوں کو نشانہ بنایا جہاں شدید دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ اس فوجی کارروائی کے ساتھ ہی امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے اس کی خام تیل بیچنے کی پابندیوں کی چھوٹ (وایور) کو فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے جہازوں پر حملے کر کے جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔
اس اچانک کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں یکدم 5 فیصد سے زائد کا اضافہ ہو گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 76 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ قطر اور سعودی عرب نے ایران کے ان اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ قطری حکومت نے احتجاجاً ایرانی سفیر کو بھی طلب کیا ہے۔ یہ فضائی حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شریک ہیں اور ایران میں سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات کا ہفتہ منایا جا رہا ہے

