انقرہ( الفجرآن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے شہر انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچتے ہی ایک بار پھر یہ مطالبہ دہرا دیا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا اور واضح کیا کہ اگر یورپی ممالک نے اس فیصلے کی مخالفت جاری رکھی، تو امریکہ یورپ سے اپنی تمام افواج واپس بلا سکتا ہے۔ انہوں نے اس جزیرے کو امریکہ کی قومی سلامتی اور آرکٹک خطے میں روس اور چین کی فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک اہم جغرافیائی ضرورت قرار دیا۔
امریکی صدر نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے دفاعی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس خود مختار خطے کے پاس اپنی حفاظت کے لیے مناسب وسائل موجود نہیں ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈنمارک گرین لینڈ کے دفاع پر خاطر خواہ رقم خرچ نہیں کر رہا۔ یورپی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ان کے سخت موقف نے ماضی میں بھی نیٹو کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا تھا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران امریکی افواج کو یورپی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر فرانس، جرمنی اور اٹلی جیسے بڑے اتحادیوں کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کو ایک بار پھر یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کی فروخت کا کوئی امکان نہیں ہے اور وہ امید کرتی ہیں کہ یہ بات سب پر واضح ہوگی۔ گرین لینڈ کے وزیر خارجہ موتے ایگیڈے نے بھی سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ گرین لینڈ کسی خریداری کے لیے دستیاب نہیں ہے اور اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ صرف یہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق، آرکٹک کی سیکیورٹی کے حوالے سے امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان سفارتی بات چیت کا سلسلہ پس پردہ اب بھی جاری ہے

