انقرہ (ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین موقف اپناتے ہوئے ایک بار پھر فوجی کارروائی کرنے کی شدید دھمکی دیدی ہے۔ ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سمٹ کے موقع پر یوکرینی صدر سے ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ ایرانی اقدامات سے شدید ناخوش ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی افواج نے گزشتہ رات ایران کو نشانہ بنایا تھا، اور قوی امکان ہے کہ آج رات بھی سخت کارروائی کی جائے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایرانی قیادت پر تنقید
صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام کئی دہائیوں سے دنیا کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے، لیکن اب مشرقِ وسطیٰ میں ان کی بدمعاشی نہیں چلے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران گزشتہ 47 سال سے معصوم لوگوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے اور تہران کا یہ رویہ اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جوہری معاہدے پر سخت موقف اور اوبامہ پر تنقید
جوہری پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور میں ہونے والے ڈیل کو تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اوبامہ نے ایران کو بھاری فنڈز فراہم کیے جبکہ ایرانی حکام نے ہمیشہ جھوٹ اور دھوکے بازی کا سہارا لیا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ ایران کے ساتھ نیا معاہدہ ایک مشکل ترین عمل ہے، لیکن امریکا کسی ڈیل کا محتاج نہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اگر کوئی نیا معاہدہ نہ بھی ہوا، تب بھی امریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دے گا اور یہ راستہ ان کے لیے زیادہ آسان ہے

