مستونگ(الفجرآن لائن) بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کے خلاف لواحقین، خواتین، بچوں اور عیسائی برادری کے افراد نے شہید نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال کے سامنے لاشیں رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا اور کوئٹہ۔کراچی قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی، جس سے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ مستونگ کے علاقے شمس آباد دمب ایریا میں پیش آیا، جہاں کرکٹ کھیلنے جانے والے دو نوجوانوں پر نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں دونوں نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق افراد کی شناخت 21 سالہ ایوش ولد مائیکل اور 24 سالہ دونک ولد لازر کے نام سے ہوئی، جو عیسائی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہل خانہ، مقامی افراد اور عیسائی برادری کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی۔ غم و غصے میں مشتعل مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری، شفاف تحقیقات اور اقلیتی برادری کے جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا دیا، جس کے باعث کوئٹہ۔کراچی قومی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی اور سینکڑوں مسافر گاڑیاں، کوچز، ٹرک، آئل ٹینکرز اور دیگر گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں۔واقعے کی اطلاع پر پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ حکام نے مظاہرین سے مذاکرات شروع کر دیے جبکہ جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، تاہم ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں سرچ اور تفتیشی کارروائیاں جاری ہیں۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں

